سعادت حسن منٹو — افسانہ نگار، ڈراما نویس، فلمی کہانی نویس
تصویر: Unknown authorUnknown author — Wikimedia Commons (Public domain)
ادباء و مصنفین

سعادت حسن منٹو

Saadat Hasan Manto
افسانہ نگار، ڈراما نویس، فلمی کہانی نویس
پیدائش: 11 مئی 1912ء، سمرالہ، ضلع لدھیانہ، پنجاب (برطانوی ہند) وفات: 18 جنوری 1955ء، لاہور

اردو کے عظیم افسانہ نگار جنھوں نے تقسیمِ ہند کے المیے اور معاشرے کے نظر انداز کردہ طبقوں کو ٹوبہ ٹیک سنگھ، کھول دو اور ٹھنڈا گوشت جیسے افسانوں میں بے مثال سچائی سے بیان کیا۔

Facebook X

فوری حقائق

پیدائش
11 مئی 1912ء
جائے پیدائش
سمرالہ، ضلع لدھیانہ، پنجاب (برطانوی ہند)
وفات
18 جنوری 1955ء
جائے وفات
لاہور
پیشہ
افسانہ نگار، ڈراما نویس، فلمی کہانی نویس
قومیت
برطانوی ہند، بعد ازاں پاکستانی
اصل شعبہ
افسانہ نگاری، ریڈیو ڈراما، فلمی کہانی
ادبی مقام
اردو کے صفِ اوّل کے افسانہ نگار؛ تقسیمِ ہند کے سب سے بڑے نثری گواہ
افسانوں کی تعداد
دو سو سے زائد افسانے؛ بیس سے زائد مجموعے
مقدمات
فحاشی کے الزام میں چھ مقدمے (تین برطانوی ہند، تین پاکستان میں)
ہجرت
جنوری 1948ء میں بمبئی سے لاہور
اعزاز
نشانِ امتیاز، 2012ء (بعد از مرگ)
تدفین
میانی صاحب قبرستان، لاہور
اہم تصانیف / کام
آتش پارے (1936ء)، دھواں (1941ء)، سیاہ حاشیے (1948ء)، ٹھنڈا گوشت (1950ء)
اعزازات
نشانِ امتیاز (بعد از مرگ)، 2012ء

تعارف

سعادت حسن منٹو اردو افسانے کی تاریخ کا سب سے زیادہ زیرِ بحث اور سب سے زیادہ پڑھا جانے والا نام ہیں۔ انھوں نے محض بیالیس برس کی عمر پائی، مگر اس مختصر زندگی میں دو سو سے زائد افسانے، درجنوں ریڈیو ڈرامے، خاکے، مضامین اور فلمی کہانیاں لکھیں۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ، کھول دو اور ٹھنڈا گوشت جیسے افسانے آج عالمی ادب کے نصاب کا حصہ ہیں۔

ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر

منٹو 11 مئی 1912ء کو ضلع لدھیانہ (پنجاب) کے قصبے سمرالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان کشمیری نژاد تھا اور والد غلام حسن منٹو عدلیہ سے وابستہ ایک سخت مزاج شخص تھے۔ منٹو کا بچپن اور لڑکپن امرتسر میں گزرا۔ 1919ء میں جلیانوالہ باغ کا سانحہ امرتسر ہی میں پیش آیا؛ یہ واقعہ بعد میں ان کے ابتدائی افسانے تماشا کا موضوع بنا۔ 1939ء میں ان کی شادی صفیہ سے ہوئی، جو آخر تک ان کا سب سے بڑا سہارا رہیں۔

تعلیم

رسمی تعلیم میں منٹو کا ریکارڈ کبھی قابلِ رشک نہ رہا۔ انھوں نے امرتسر کے مسلم ہائی اسکول سے میٹرک کئی کوششوں کے بعد پاس کیا اور کالج کی تعلیم مکمل نہ کر سکے۔ 1930ء کی دہائی کے وسط میں وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی گئے، مگر بیماری اور دوسرے اسباب کے باعث یہ قیام مختصر رہا۔ ان کی اصل تربیت درسگاہ سے باہر ہوئی: امرتسر میں صحافی اور دانشور عبدالباری علیگ نے انھیں روسی اور فرانسیسی ادب سے متعارف کرایا۔ اسی رفاقت کا نتیجہ تھا کہ منٹو نے وکٹر ہیوگو کی ایک کتاب کا ترجمہ سرگزشتِ اسیر کے نام سے کیا اور روسی افسانوں کے تراجم بھی شائع کیے۔

عملی زندگی

منٹو نے عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا۔ لاہور میں فلمی رسالے پارس سے وابستگی کے بعد وہ 1936ء میں بمبئی پہنچے، جہاں انھوں نے فلمی ہفت روزہ مصور کی ادارت کی اور فلم کمپنیوں کے لیے کہانیاں اور مکالمے لکھنے لگے۔ 1941ء میں وہ آل انڈیا ریڈیو دہلی سے منسلک ہوئے اور ریڈیو ڈرامے لکھے۔ پھر بمبئی واپس آ کر فلمستان اور بمبئی ٹاکیز جیسے اداروں کے لیے کام کیا؛ 1946ء کی فلم آٹھ دن میں انھوں نے کہانی لکھنے کے ساتھ ایک کردار بھی ادا کیا۔

تقسیم کے بعد جنوری 1948ء میں منٹو لاہور منتقل ہو گئے۔ لاہور میں ادبی حلقے موجود تھے مگر معاشی حالات نہایت کٹھن رہے؛ اسی دور میں انھوں نے اپنے سب سے طاقتور افسانے تخلیق کیے۔ شراب نوشی نے صحت کو مسلسل نقصان پہنچایا اور 18 جنوری 1955ء کو وہ لاہور میں انتقال کر گئے۔ انھیں میانی صاحب کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

اہم کارنامے

منٹو کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ وہ اردو افسانے کو اصلاحی وعظ اور رومانی تخیل سے نکال کر زندگی کے ان گوشوں تک لے گئے جن پر لکھنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ طوائف، مزدور، دلال، شرابی اور فسادات میں پسے ہوئے عام انسان ان کے کرداروں کا مرکز بنے۔ تقسیم کے فوراً بعد لکھے گئے مختصر خاکوں کا مجموعہ سیاہ حاشیے (1948ء) بتاتا ہے کہ چند سطروں میں بھی ایک پوری تہذیب کے زوال کی تصویر کھینچی جا سکتی ہے۔

ان کے افسانوں پر فحاشی کے الزام میں چھ مرتبہ مقدمے چلے: تین برطانوی ہند میں (کالی شلوار، دھواں، بو) اور تین قیامِ پاکستان کے بعد (ٹھنڈا گوشت، کھول دو، اوپر نیچے اور درمیان)۔ منٹو نے عدالتوں میں اپنے فن کا دفاع خود کیا۔ ان مقدمات کا انجام بریت یا معمولی جرمانے پر ہوا اور انھیں کبھی قید نہیں کاٹنی پڑی۔ ترقی پسند مصنفین کی تنظیم سے بھی ان کے اختلافات ہوئے اور وہ کسی ادبی گروہ کے پابند نہ رہے۔

اہم تصانیف

منٹو کی کتابیں بیس سے زائد افسانوی مجموعوں کے علاوہ ڈراموں، خاکوں اور مضامین پر مشتمل ہیں۔ پہلا مجموعہ آتش پارے 1936ء میں شائع ہوا۔ اس کے بعد منٹو کے افسانے، دھواں، لذتِ سنگ، سیاہ حاشیے، ٹھنڈا گوشت، یزید، خالی بوتلیں خالی ڈبے، نمرود کی خدائی اور پھندنے جیسے مجموعے سامنے آئے۔ فلمی دنیا کی شخصیات پر لکھے گئے بے لاگ خاکوں کا مجموعہ گنجے فرشتے اردو خاکہ نگاری میں ایک الگ مقام رکھتا ہے۔ چچا سام کے نام خطوط سرد جنگ کی سیاست پر طنزیہ تبصرہ ہیں۔

نظریات اور کام کی اہمیت

منٹو کسی نظریاتی تحریک کے ترجمان نہیں تھے؛ وہ خود کو صرف انسان کا نقاش کہتے تھے۔ ان کے نزدیک ادیب کا کام یہ نہیں کہ وہ معاشرے کو خوش کرے، بلکہ یہ کہ وہ جو دیکھے، اسے پوری دیانت سے لکھ دے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کا بشن سنگھ، جو دو ملکوں کے درمیان بے نام زمین پر دم توڑتا ہے، تقسیم کی بے معنویت کی سب سے بڑی علامت بن گیا۔ منٹو کے اسلوب کی خوبی اختصار، چبھتا ہوا طنز اور ایسا اختتام ہے جو کہانی ختم ہونے کے بعد بھی ذہن میں چلتا رہتا ہے۔

میراث اور اثرات

اپنی زندگی میں منٹو کو مقدمات، تنگدستی اور تنقید کا سامنا رہا، مگر وفات کے بعد وہ اردو کے سب سے معتبر افسانہ نگار تسلیم کیے گئے۔ 2005ء میں ان کی پچاسویں برسی پر حکومتِ پاکستان نے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا اور 2012ء میں انھیں بعد از مرگ ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزاز نشانِ امتیاز سے نوازا گیا۔ فیض احمد فیض کی طرح منٹو بھی اس نسل کے نمائندہ ہیں جس نے آزادی اور تقسیم کو ایک ساتھ دیکھا؛ فرق یہ ہے کہ فیض نے اس تجربے کو نظم میں اور منٹو نے نثر میں امر کیا۔ آج اردو فکشن کا کوئی نیا لکھنے والا منٹو کے سائے سے بچ کر نہیں گزر سکتا؛ یہی ان کی سب سے بڑی میراث ہے۔

زندگی کی اہم تاریخیں

  1. 11 مئی 1912ء
    ضلع لدھیانہ کے قصبے سمرالہ میں پیدائش
    ماخذ: Britannica
  2. 1936ء
    پہلا افسانوی مجموعہ آتش پارے شائع ہوا؛ بمبئی منتقلی اور فلمی صحافت کا آغاز
    ماخذ: Rekhta
  3. 1941ء
    آل انڈیا ریڈیو دہلی سے وابستگی؛ ریڈیو ڈراموں کی تخلیق
    ماخذ: Britannica
  4. 1948ء
    تقسیم کے بعد لاہور ہجرت؛ تقسیم کے خاکوں کا مجموعہ سیاہ حاشیے شائع ہوا
    ماخذ: Britannica
  5. 18 جنوری 1955ء
    لاہور میں بیالیس برس کی عمر میں انتقال؛ میانی صاحب میں تدفین
    ماخذ: Britannica
  6. 2005ء
    پچاسویں برسی پر حکومتِ پاکستان نے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا
    ماخذ: Britannica
  7. 2012ء
    بعد از مرگ نشانِ امتیاز سے سرفراز
    ماخذ: Britannica

اکثر پوچھے گئے سوالات

سعادت حسن منٹو کب اور کہاں پیدا ہوئے؟

سعادت حسن منٹو 11 مئی 1912ء کو برطانوی ہند کے صوبہ پنجاب میں ضلع لدھیانہ کے قصبے سمرالہ میں پیدا ہوئے۔

منٹو کے مشہور افسانے کون سے ہیں؟

ٹوبہ ٹیک سنگھ، کھول دو، ٹھنڈا گوشت، کالی شلوار، بو، ہتک، نیا قانون، بابو گوپی ناتھ اور موذیل ان کے مشہور ترین افسانوں میں شمار ہوتے ہیں۔

منٹو پر مقدمے کیوں چلے؟

ان کے چھ افسانوں پر فحاشی کا الزام لگا کر مقدمے چلائے گئے: تین برطانوی ہند میں اور تین قیامِ پاکستان کے بعد۔ منٹو کا مؤقف تھا کہ ادیب معاشرے کا آئینہ ہے اور آئینے میں نظر آنے والی بدصورتی کا ذمے دار آئینہ نہیں۔

منٹو کا انتقال کب ہوا؟

منٹو 18 جنوری 1955ء کو لاہور میں محض بیالیس برس کی عمر میں انتقال کر گئے اور میانی صاحب کے قبرستان میں دفن ہوئے۔

منٹو کو کون سا سرکاری اعزاز ملا؟

حکومتِ پاکستان نے 2012ء میں انھیں بعد از مرگ ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزاز نشانِ امتیاز سے نوازا؛ 2005ء میں ان کی پچاسویں برسی پر یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری ہوا۔

سعادت حسن منٹو پر منتخب کتابیں

اگر آپ اس شخصیت کو مزید سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ کتابیں ایک اچھا آغاز ہیں۔ ہر کتاب کے ساتھ ہماری ایماندار وجہ درج ہے۔

Amazon ایسوسی ایٹ کے طور پر UrduBiography.com اہل خریداریوں سے کمیشن حاصل کر سکتا ہے۔ تفصیل

ذرائع اور حوالہ جات

  1. Encyclopaedia Britannica — Saadat Hasan Manto www.britannica.com
  2. Rekhta — Saadat Hasan Manto (profile and works) www.rekhta.org
  3. Wikipedia — Saadat Hasan Manto (ابتدائی حوالہ) en.wikipedia.org

مزید حوالے: en.wikipedia.org

ہم ماخذ پر مبنی اصل اردو مواد شائع کرتے ہیں۔ غلطی نظر آئے تو اصلاح کی درخواست کریں۔

UrduBiography Editorial Team

یہ سوانح مستند ذرائع کی بنیاد پر اصل اردو میں تیار کی گئی ہے۔ حقائق کی تصدیق کی حالت ٹائم لائن میں درج ہے۔ کوئی غلطی نظر آئے تو ہمیں بتائیں — تصدیق کے بعد اصلاح نوٹ کے ساتھ تبدیلی کی جاتی ہے۔