صلاح الدین ایوبی
صلاح الدین ایوبی (تقریباً 1137ء–1193ء) ایوبی سلطنت کے بانی تھے جنہوں نے مصر و شام کو متحد کیا اور 1187ء میں حطین کی فتح کے بعد بیت المقدس کو صلیبی حکومت سے واپس لیا۔
فوری حقائق
- پیدائش
- تقریباً 1137ء یا 1138ء (تخمینی)
- جائے پیدائش
- تکریت (موجودہ عراق)
- وفات
- 4 مارچ 1193ء
- جائے وفات
- دمشق (موجودہ شام)
- پیشہ
- سلطان، سپہ سالار، ایوبی سلطنت کے بانی
- قومیت
- ایوبی سلطنت (مصر و شام)
- اصل نام
- یوسف بن ایوب؛ لقب الملک الناصر صلاح الدین
- نسلی پس منظر
- کرد خاندان، اصلاً دوین (آرمینیا) سے
- والد اور چچا
- نجم الدین ایوب؛ اسد الدین شیرکوہ
- سلطنت
- مصر، شام، جزیرہ (شمالی عراق)، یمن اور حجاز
- فیصلہ کن جنگ
- حطین، 4 جولائی 1187ء
- معاصر سوانح نگار
- بہاء الدین ابن شداد؛ عماد الدین اصفہانی
- مزار
- دمشق، جامع اموی کے قریب
- اہم تصانیف / کام
- ایوبی سلطنت کی بنیاد (1171ء–1174ء)، قلعۂ قاہرہ کی تعمیر کا آغاز (1176ء)، حطین کی جنگ اور بیت المقدس کی بازیابی (1187ء)، معاہدۂ یافا کے ذریعے تیسری صلیبی جنگ کا خاتمہ (1192ء)
تعارف
الملک الناصر صلاح الدین یوسف بن ایوب، جنہیں دنیا صلاح الدین ایوبی اور مغرب Saladin کے نام سے جانتا ہے، بارہویں صدی کے سب سے ممتاز مسلمان حکمران اور ایوبی سلطنت کے بانی ہیں۔ وہ تقریباً 1137ء میں تکریت (عراق) میں پیدا ہوئے اور 4 مارچ 1193ء کو دمشق میں وفات پائی۔ انھوں نے مصر، شام، یمن اور شمالی عراق کو ایک حکومت کے تحت متحد کیا، 1187ء میں حطین کی جنگ کے بعد بیت المقدس کو صلیبی حکومت سے واپس لیا اور تیسری صلیبی جنگ میں رچرڈ اول کا مقابلہ کیا۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
صلاح الدین کا تعلق ایک کرد خاندان سے تھا جو آرمینیا کے علاقے دوین سے آ کر عراق میں آباد ہوا تھا۔ ان کے والد نجم الدین ایوب تکریت کے قلعے کے نگران تھے۔ خاندان موصل کے حکمران عماد الدین زنگی کی خدمت میں آیا اور نجم الدین کو بعلبک کا حاکم مقرر کیا گیا، جبکہ ان کے چچا اسد الدین شیرکوہ زنگی فوج کے نامور سپہ سالار بنے۔ بعد میں دونوں بھائی عماد الدین کے بیٹے نور الدین محمود زنگی کے بااعتماد امرا میں شامل ہو گئے، اور صلاح الدین کی پرورش بعلبک اور دمشق میں ہوئی۔
تعلیم
صلاح الدین کی باقاعدہ تعلیم کی تفصیلات محدود ہیں، مگر ان کے سوانح نگار بتاتے ہیں کہ انھوں نے دمشق میں قرآن، حدیث، فقہ اور عربی ادب کی تعلیم حاصل کی۔ نور الدین زنگی کی سخت دینی و اخلاقی روش نے ان کی شخصیت پر گہرا نقش چھوڑا۔
عملی زندگی
1164ء سے 1169ء کے درمیان شیرکوہ نے نور الدین کے حکم پر مصر میں تین مہمات کیں تاکہ کمزور فاطمی خلافت کو صلیبی قبضے سے بچایا جا سکے؛ صلاح الدین ان میں شریک تھے۔ 1169ء میں شیرکوہ فاطمی وزیر بنے مگر چند ہفتوں بعد انتقال کر گئے اور صلاح الدین ان کی جگہ وزیر مقرر ہوئے۔ انھوں نے 1171ء میں آخری فاطمی خلیفہ العاضد کی وفات پر فاطمی خلافت ختم کر کے مصر کو عباسی خلیفہ کی اطاعت میں واپس لایا۔ 1174ء میں نور الدین کی وفات کے بعد انھوں نے دمشق پر قبضہ کیا اور پھر حلب (1183ء) اور موصل (1186ء) کو اطاعت میں لا کر مسلم علاقوں کا اتحاد مکمل کیا۔
1187ء میں رینالڈ آف شاتیون کی صلح کی خلاف ورزی کے بعد صلاح الدین نے فلسطین پر پیش قدمی کی۔ 4 جولائی 1187ء کو حطین کے میدان میں صلیبی فوج کو فیصلہ کن شکست ہوئی۔ 2 اکتوبر 1187ء کو بیت المقدس نے مذاکرات کے بعد ہتھیار ڈال دیے۔ 1099ء میں صلیبی قبضے کے وقت شہر میں بڑے پیمانے پر قتلِ عام ہوا تھا؛ اس کے برعکس صلاح الدین نے شہریوں کو فدیہ ادا کر کے جانے کی اجازت دی اور بہت سے غریب لوگوں کو فدیے کے بغیر رہا کیا۔ اس واقعے نے یورپ کو تیسری صلیبی جنگ پر ابھارا۔ 1191ء میں رچرڈ اول کی قیادت میں صلیبیوں نے عکہ واپس لے لیا اور ارسوف میں صلاح الدین کو پسپا کیا، مگر بیت المقدس تک نہ پہنچ سکے۔ ستمبر 1192ء میں معاہدۂ یافا کے تحت ساحلی پٹی صلیبیوں کے پاس رہی، بیت المقدس مسلمانوں کے پاس رہا اور مسیحی زائرین کو شہر آنے کی اجازت ملی۔ 4 مارچ 1193ء کو صلاح الدین دمشق میں وفات پا گئے۔
اہم کارنامے
- مصر، شام، جزیرہ اور یمن کو ایک حکومت کے تحت متحد کر کے ایوبی سلطنت کی بنیاد۔
- حطین کی جنگ (1187ء) اور بیت المقدس کی پرامن حوالگی، جس میں شہریوں کی جان بچائی گئی۔
- تیسری صلیبی جنگ (1189ء–1192ء) کا مقابلہ اور معاہدۂ یافا کے ذریعے اس کا خاتمہ۔
اہم کام
صلاح الدین مصنف نہیں تھے؛ ان کا کام ریاستی اقدامات کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ قاہرہ کا قلعہ، جس کی تعمیر 1176ء میں شروع ہوئی، آج بھی شہر کی سب سے نمایاں تاریخی عمارت ہے۔ انھوں نے مصر اور شام میں مدارس قائم کیے اور بیت المقدس میں مسجدِ اقصیٰ اور قبۃ الصخرہ کی مرمت کروائی۔ ان کی زندگی کا سب سے معتبر معاصر ماخذ ان کے قاضی اور مشیر بہاء الدین ابن شداد کی کتاب النوادر السلطانیہ ہے۔
نظریات اور کام کی اہمیت
صلاح الدین کی سیاست کا مرکزی تصور یہ تھا کہ صلیبی ریاستوں کا مقابلہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مسلم علاقے اندرونی تقسیم سے نہ نکلیں۔ اسی لیے انھوں نے زندگی کا بڑا حصہ مسلمان حریفوں کے ساتھ کشمکش میں صرف کیا۔ وہ نور الدین کی طرح جہاد کو دینی فریضہ اور سیاسی اتحاد کا ذریعہ سمجھتے تھے، مگر معاہدوں کی پاسداری، قیدیوں سے سلوک اور دشمن کے ساتھ شائستگی ان کی شہرت کی بنیاد بنی۔ مورخین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ ان کا رویہ ہر موقعے پر نرم نہیں تھا؛ حطین کے بعد ٹمپلر اور ہاسپٹلر سرداروں کو قتل کیا گیا اور رینالڈ کو خود سزا دی گئی۔ اس کے باوجود بیت المقدس کے باشندوں کے ساتھ ان کا سلوک عہدِ وسطیٰ کی جنگی روایات میں غیر معمولی سمجھا جاتا ہے۔
میراث اور اثرات
سوانح نگاروں کے مطابق وفات کے وقت ان کے ذاتی خزانے میں معمولی رقم تھی کیونکہ وہ اپنا مال خیرات اور فوج پر صرف کرتے رہے۔ یورپ میں ان کی شخصیت نے دانتے سے لے کر سر والٹر سکاٹ کے ناول The Talisman تک ادب کو متاثر کیا اور وہ مغربی تخیل میں شریف حریف کی علامت بن گئے۔ جدید دور میں مسلم دنیا نے انھیں اتحاد اور مزاحمت کی علامت کے طور پر دوبارہ دریافت کیا۔ پاکستان میں اردو ادب اور درسی کتب میں وہ عدل، شجاعت اور فیاضی کی مثال کے طور پر زندہ ہیں۔ تاریخی اعتبار سے ان کی اہمیت یہ ہے کہ انھوں نے ایک منقسم خطے کو متحد کیا اور بیت المقدس کی حوالگی کے موقعے پر دکھایا کہ فتح اور رحم ایک ساتھ ممکن ہیں۔
زندگی کی اہم تاریخیں
-
1137ءتکریت میں پیدائشتخمینی ماخذ: Britannica
-
1169ءچچا شیرکوہ کی وفات کے بعد فاطمی مصر کے وزیر مقررماخذ: Britannica
-
1171ءآخری فاطمی خلیفہ العاضد کی وفات پر فاطمی خلافت کا خاتمہ؛ مصر عباسی خلافت کی اطاعت میںماخذ: Britannica
-
1174ءنور الدین زنگی کی وفات؛ صلاح الدین کا دمشق پر قبضہماخذ: Britannica
-
4 جولائی 1187ءحطین کی جنگ میں صلیبی فوج کو فیصلہ کن شکستماخذ: Britannica
-
2 اکتوبر 1187ءبیت المقدس کی مذاکرات کے ذریعے حوالگی؛ شہریوں کو فدیے پر جانے کی اجازتماخذ: Britannica
-
1191ءتیسری صلیبی جنگ: عکہ کا صلیبیوں کے ہاتھ میں جانا اور ارسوف کی لڑائیماخذ: Britannica
-
1192ءرچرڈ اول کے ساتھ معاہدۂ یافا؛ بیت المقدس مسلمانوں کے پاس، ساحلی پٹی صلیبیوں کے پاسماخذ: Britannica
-
4 مارچ 1193ءدمشق میں وفاتماخذ: Britannica
اکثر پوچھے گئے سوالات
صلاح الدین ایوبی کب اور کہاں پیدا ہوئے؟
صلاح الدین ایوبی تقریباً 1137ء یا 1138ء میں عراق کے شہر تکریت میں پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش کی قطعی تاریخ معلوم نہیں۔
صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کب فتح کیا؟
4 جولائی 1187ء کو حطین کی جنگ میں صلیبی فوج کو شکست دینے کے بعد 2 اکتوبر 1187ء کو بیت المقدس نے مذاکرات کے ذریعے ہتھیار ڈال دیے اور شہر اٹھاسی برس بعد مسلمانوں کے قبضے میں واپس آیا۔
صلاح الدین ایوبی کیوں مشہور ہیں؟
انھوں نے مصر، شام اور شمالی عراق کو ایک حکومت کے تحت متحد کیا، بیت المقدس واپس لیا اور تیسری صلیبی جنگ میں رچرڈ اول کا مقابلہ کیا؛ ان کی فیاضی اور عہد کی پاسداری کو مسلمان اور مسیحی مورخین دونوں نے سراہا ہے۔
صلاح الدین ایوبی کس نسل سے تھے؟
ان کا تعلق ایک کرد خاندان سے تھا جو آرمینیا کے علاقے دوین سے آ کر عراق میں آباد ہوا اور بعد میں زنگی حکمرانوں کی خدمت میں شام منتقل ہو گیا۔
صلاح الدین ایوبی کا مزار کہاں ہے؟
صلاح الدین ایوبی 4 مارچ 1193ء کو دمشق میں وفات پا گئے؛ ان کا مزار دمشق میں جامع اموی کے قریب ہے۔
صلاح الدین ایوبی پر منتخب کتابیں
اگر آپ اس شخصیت کو مزید سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ کتابیں ایک اچھا آغاز ہیں۔ ہر کتاب کے ساتھ ہماری ایماندار وجہ درج ہے۔
The Rare and Excellent History of Saladin (النوادر السلطانیہ والمحاسن اليوسفیہ)
صلاح الدین کے قاضی اور قریبی ساتھی کی لکھی ہوئی معاصر سوانح، جو ان کی زندگی کا سب سے معتبر بنیادی ماخذ ہے۔
Amazon پر کتاب دیکھیںSaladin: The Politics of the Holy War
عربی ماخذ پر مبنی جدید علمی سوانح جو صلاح الدین کی سیاست اور جنگوں کا متوازن اور تفصیلی تجزیہ کرتی ہے۔
Amazon پر کتاب دیکھیںSaladin
فرانسیسی مورخہ کی مفصل سوانح جو صلاح الدین کی تاریخی شخصیت اور ان کے بارے میں بننے والی روایات کو الگ الگ کر کے دیکھتی ہے۔
Amazon پر کتاب دیکھیںAmazon ایسوسی ایٹ کے طور پر UrduBiography.com اہل خریداریوں سے کمیشن حاصل کر سکتا ہے۔ تفصیل
ذرائع اور حوالہ جات
- Encyclopaedia Britannica — Saladin www.britannica.com
- Encyclopaedia Britannica — Battle of Hattin www.britannica.com
- Encyclopaedia Britannica — Crusades www.britannica.com
- World History Encyclopedia — Saladin www.worldhistory.org
- Wikipedia — Saladin (ابتدائی حوالہ) en.wikipedia.org
مزید حوالے: en.wikipedia.org
ہم ماخذ پر مبنی اصل اردو مواد شائع کرتے ہیں۔ غلطی نظر آئے تو اصلاح کی درخواست کریں۔
یہ سوانح مستند ذرائع کی بنیاد پر اصل اردو میں تیار کی گئی ہے۔ حقائق کی تصدیق کی حالت ٹائم لائن میں درج ہے۔ کوئی غلطی نظر آئے تو ہمیں بتائیں — تصدیق کے بعد اصلاح نوٹ کے ساتھ تبدیلی کی جاتی ہے۔