ابن سینا
ابن سینا (تقریباً 980ء–1037ء) اسلامی عہدِ زریں کے عظیم فلسفی اور طبیب تھے، جن کی کتاب القانون فی الطب صدیوں تک مشرق و مغرب میں طب کا بنیادی نصاب رہی۔
فوری حقائق
- پیدائش
- تقریباً 980ء (تخمینی)
- جائے پیدائش
- افشنہ، بخارا کے قریب (موجودہ ازبکستان)
- وفات
- 1037ء
- جائے وفات
- ہمدان (موجودہ ایران)
- پیشہ
- طبیب، فلسفی، منطقی، ماہرِ فلکیات
- قومیت
- فارسی (سامانی و بویہی عہد)
- پورا نام
- ابو علی حسین بن عبداللہ بن سینا
- لقب
- الشیخ الرئیس؛ مغرب میں Avicenna
- شعبے
- طب، فلسفہ، منطق، فلکیات، ریاضی
- استاد
- ابو عبداللہ ناتلی (منطق، جیومیٹری، فلکیات)
- شاگرد اور سوانح نگار
- ابو عبید جوزجانی
- زبانیں
- عربی اور فارسی
- مزار
- ہمدان، ایران
- اہم تصانیف / کام
- القانون فی الطب (تقریباً 1025ء)، کتاب الشفاء، کتاب النجاة، الاشارات والتنبیہات
تعارف
ابو علی حسین بن عبداللہ ابن سینا، جنہیں مشرق میں الشیخ الرئیس اور مغرب میں Avicenna کہا جاتا ہے، اسلامی تہذیب کے عہدِ زریں کے سب سے بااثر فلسفی اور طبیب ہیں۔ وہ تقریباً 980ء میں بخارا کے نواح میں پیدا ہوئے اور 1037ء میں ہمدان میں وفات پائی۔ ان کی کتاب القانون فی الطب صدیوں تک مشرق و مغرب کے طبی مدارس کا بنیادی نصاب رہی، اور ان کا فلسفیانہ نظام یونانی فکر اور اسلامی عقائد کے درمیان ایک ایسا پل بنا جس نے مسلم، یہودی اور مسیحی مفکرین کو یکساں متاثر کیا۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
ابن سینا کی ابتدائی زندگی کا بنیادی ماخذ ان کی اپنی مختصر خودنوشت ہے جسے ان کے شاگرد ابو عبید جوزجانی نے مکمل کیا۔ اس کے مطابق ان کے والد عبداللہ بلخ کے رہنے والے تھے اور سامانی حکومت میں سرکاری عہدے پر فائز تھے؛ وہ بخارا کے قریب افشنہ نامی بستی میں مقیم ہوئے جہاں ابن سینا پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ کا نام ستارہ بیان کیا جاتا ہے۔ کچھ عرصے بعد خاندان بخارا منتقل ہو گیا جو اس وقت سامانی سلطنت کا دارالحکومت اور علم و ادب کا بڑا مرکز تھا۔
تعلیم
خودنوشت کے مطابق ابن سینا نے دس برس کی عمر تک قرآن اور عربی ادب کی تعلیم مکمل کر لی تھی۔ انھوں نے ابو عبداللہ ناتلی سے منطق، اقلیدس کی جیومیٹری اور بطلیموس کی فلکیات پڑھی، مگر جلد ہی استاد سے آگے نکل گئے اور خود مطالعے سے طبیعیات، مابعد الطبیعیات اور طب میں مہارت حاصل کی۔ وہ لکھتے ہیں کہ طب انھیں نسبتاً آسان لگی اور وہ نوعمری ہی میں مریضوں کا علاج کرنے لگے۔ ارسطو کی مابعد الطبیعیات سمجھنے میں انھیں دشواری ہوئی جو فارابی کی ایک شرح پڑھنے سے دور ہوئی۔ روایت ہے کہ سامانی حکمران نوح بن منصور کے علاج کے بعد انھیں شاہی کتب خانے تک رسائی ملی جہاں انھوں نے نادر کتابوں کا مطالعہ کیا۔
عملی زندگی
999ء میں سامانی حکومت ختم ہو گئی اور چند برس بعد والد کی وفات ہوئی تو ابن سینا کو بخارا چھوڑنا پڑا۔ اس کے بعد ان کی زندگی مسلسل سفر اور درباری سیاست کے نشیب و فراز سے عبارت ہے۔ وہ خوارزم کے شہر گرگانج گئے، پھر گرگان (جرجان) پہنچے جہاں جوزجانی ان سے وابستہ ہوئے اور القانون کی تصنیف کا آغاز ہوا۔ بعد ازاں ہمدان کے بویہی حکمران شمس الدولہ نے انھیں اپنا طبیب اور پھر وزیر مقرر کیا، مگر درباری سازشوں کے نتیجے میں انھیں کچھ عرصہ قید بھی کاٹنی پڑی۔ تقریباً 1024ء میں وہ اصفہان پہنچے جہاں علاء الدولہ کاکویہ کے دربار میں انھیں نسبتاً پرسکون ماحول ملا اور ان کے کئی اہم کام یہیں مکمل ہوئے۔ 1037ء میں علاء الدولہ کے ساتھ ایک مہم کے دوران وہ ہمدان میں بیمار ہوئے اور وہیں وفات پائی؛ ان کا مزار آج بھی ہمدان میں موجود ہے۔
اہم کارنامے
- طب کی تدوین: القانون فی الطب میں یونانی، ہندی اور اسلامی طبی علم کو ایک منظم نظام میں سمیٹا؛ کتاب پانچ حصوں پر مشتمل ہے جن میں عمومی اصول، سادہ ادویہ، اعضا کی بیماریاں، عمومی امراض اور مرکب دوائیں شامل ہیں۔
- فلسفے کا جامع نظام: کتاب الشفاء میں منطق، طبیعیات، ریاضی اور الہیات کو ایک مربوط نظام کی شکل دی جو ارسطو اور نوفلاطونی فکر کو اسلامی توحید سے ہم آہنگ کرتا ہے۔
- وجود اور ماہیت کی تفریق: ماہیت اور وجود کے فرق اور واجب الوجود کے تصور پر ان کی بحث بعد کی اسلامی اور مسیحی الہیات میں مرکزی اہمیت اختیار کر گئی۔
- نفس کا تصور: معلق انسان (Floating Man) کی مشہور فکری مثال سے نفس کے خودشناس اور غیر مادی ہونے پر استدلال کیا۔
اہم تصانیف
جدید فہرستوں میں ابن سینا کے دو سو سے زائد عنوانات محفوظ ہیں جن میں مختصر رسائل بھی شامل ہیں۔ چند بنیادی کتابیں یہ ہیں:
- القانون فی الطب — طب کا انسائیکلوپیڈیا، جو تقریباً 1025ء میں مکمل ہوا۔
- کتاب الشفاء — فلسفے اور سائنس کی جامع تصنیف؛ اس کا الہیات کا حصہ خصوصی شہرت رکھتا ہے۔
- کتاب النجاة — الشفاء کا مختصر خلاصہ۔
- الاشارات والتنبیہات — بعد کے دور کی گہری فلسفیانہ تصنیف جس پر کئی شرحیں لکھی گئیں۔
- دانش نامۂ علائی — فارسی زبان میں فلسفے کی کتاب جو علاء الدولہ کے لیے لکھی گئی۔
نظریات اور کام کی اہمیت
ابن سینا کا فلسفہ عقل اور وحی کے درمیان توازن کی بڑی کوشش ہے۔ ان کے نزدیک خدا واجب الوجود ہے جس کی ہستی اپنی ذات سے ہے، جبکہ باقی تمام موجودات ممکن الوجود ہیں اور اپنے وجود کے لیے کسی علت کی محتاج ہیں۔ یہ استدلال بعد میں تھامس اکوائناس اور دیگر مغربی مفکرین کے ہاں مختلف صورتوں میں سامنے آیا۔ طب میں ان کا طریقہ مشاہدے، تجربے اور نظریاتی تنظیم کا امتزاج تھا؛ انھوں نے بیماریوں کی درجہ بندی، ادویہ کی آزمائش کے اصول اور جسمانی و نفسیاتی صحت کے باہمی تعلق پر زور دیا۔ ان کے خیالات پر امام غزالی نے تہافۃ الفلاسفہ میں سخت تنقید کی اور ابن رشد نے ان کا دفاع لکھا؛ یہ مکالمہ اسلامی فکر کی تاریخ کا اہم باب ہے۔
میراث اور اثرات
بارہویں صدی میں طلیطلہ (ٹولیڈو) میں جیرارڈ آف کریمونا نے القانون کا لاطینی ترجمہ کیا، جس کے بعد یہ کتاب یورپ کی جامعات میں صدیوں تک پڑھائی جاتی رہی۔ مشرق میں القانون اور اس کی شرحیں طبِ یونانی کی روایت کا مرکز بنیں، جو برصغیر میں آج تک زندہ ہے۔ فلسفے میں ابن سینائی روایت اسلامی دنیا کی سب سے طویل العمر فکری روایت ہے جس پر فخر الدین رازی اور نصیر الدین طوسی جیسے علما نے شرحیں اور تنقیدیں لکھیں۔ علامہ اقبال نے بھی فارسی مابعد الطبیعیات کے ارتقا پر اپنے مقالے میں ابن سینا کے افکار کا جائزہ لیا۔ جدید دور میں یونیسکو کا ایویسینا پرائز اخلاقیاتِ سائنس کے میدان میں دیا جاتا ہے۔ ابن سینا کی اصل میراث یہ ہے کہ انھوں نے علم کو ایک مربوط کُل کے طور پر دیکھا اور دکھایا کہ طبیب، فلسفی اور صاحبِ ایمان ایک ہی شخص میں یکجا ہو سکتے ہیں۔
زندگی کی اہم تاریخیں
-
0980ءبخارا کے قریب افشنہ میں پیدائشتخمینی ماخذ: Britannica
-
0997ءسامانی حکمران نوح بن منصور کا علاج اور شاہی کتب خانے تک رسائیتخمینی ماخذ: Ibn Sina autobiography (Gohlman)
-
0999ءبخارا پر قراخانیوں کا قبضہ اور سامانی حکومت کا خاتمہماخذ: Britannica
-
1012ءگرگان (جرجان) میں قیام؛ شاگرد جوزجانی سے ملاقات اور القانون کی تصنیف کا آغازتخمینی ماخذ: Stanford Encyclopedia of Philosophy
-
1015ءہمدان میں بویہی حکمران شمس الدولہ کے طبیب اور پھر وزیرتخمینی ماخذ: Britannica
-
1024ءاصفہان منتقلی؛ علاء الدولہ کاکویہ کے دربار سے وابستگیتخمینی ماخذ: Britannica
-
1025ءالقانون فی الطب کی تکمیلتخمینی ماخذ: Britannica
-
1037ءہمدان میں وفاتماخذ: Britannica
اکثر پوچھے گئے سوالات
ابن سینا کب اور کہاں پیدا ہوئے؟
ابن سینا تقریباً 980ء میں بخارا کے قریب افشنہ نامی بستی میں پیدا ہوئے جو آج ازبکستان میں ہے۔ ان کی پیدائش کی قطعی تاریخ معلوم نہیں۔
ابن سینا کی سب سے مشہور کتاب کون سی ہے؟
القانون فی الطب، جو طب کا جامع انسائیکلوپیڈیا ہے اور صدیوں تک مشرق و مغرب کے طبی مدارس میں پڑھایا جاتا رہا۔ فلسفے میں کتاب الشفاء ان کی سب سے بڑی تصنیف ہے۔
ابن سینا کیوں مشہور ہیں؟
وہ اسلامی عہدِ زریں کے سب سے بااثر فلسفی اور طبیب ہیں؛ انھوں نے طب کو ایک منظم نظام دیا اور ارسطو کے فلسفے کو اسلامی فکر سے ہم آہنگ کیا جس کا اثر یورپ کے مفکرین تک پہنچا۔
ابن سینا کا انتقال کب اور کہاں ہوا؟
ابن سینا 1037ء میں ایران کے شہر ہمدان میں وفات پا گئے، جہاں آج بھی ان کا مزار موجود ہے۔
ابن سینا کو Avicenna کیوں کہا جاتا ہے؟
Avicenna ان کے نام 'ابن سینا' کی لاطینی شکل ہے جو قرونِ وسطیٰ کے یورپ میں ان کی کتابوں کے لاطینی ترجموں کے ذریعے رائج ہوئی۔
ابن سینا پر منتخب کتابیں
اگر آپ اس شخصیت کو مزید سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ کتابیں ایک اچھا آغاز ہیں۔ ہر کتاب کے ساتھ ہماری ایماندار وجہ درج ہے۔
القانون فی الطب
ابن سینا کی سب سے مشہور تصنیف اور قرونِ وسطیٰ کی طب کی بنیادی کتاب؛ ان کے طبی طریقۂ کار کو براہِ راست سمجھنے کے لیے بنیادی ماخذ۔
Amazon پر کتاب دیکھیںAvicenna
ابن سینا کے فلسفے کا مستند اور قابلِ فہم تعارف جو ان کی مابعد الطبیعیات، نفسیات اور منطق کو عام قاری کے لیے کھولتا ہے۔
Amazon پر کتاب دیکھیںAvicenna and the Aristotelian Tradition
ابن سینا کی تصانیف اور فکری سوانح پر جدید تحقیق کی معیاری کتاب، جو ان کی خودنوشت اور کتابوں کی ترتیب کا تنقیدی مطالعہ کرتی ہے۔
Amazon پر کتاب دیکھیںAmazon ایسوسی ایٹ کے طور پر UrduBiography.com اہل خریداریوں سے کمیشن حاصل کر سکتا ہے۔ تفصیل
ذرائع اور حوالہ جات
- Encyclopaedia Britannica — Avicenna www.britannica.com
- Stanford Encyclopedia of Philosophy — Ibn Sina [Avicenna] plato.stanford.edu
- Internet Encyclopedia of Philosophy — Avicenna (Ibn Sina) iep.utm.edu
- MacTutor History of Mathematics — Avicenna mathshistory.st-andrews.ac.uk
- Encyclopaedia Iranica — Avicenna www.iranicaonline.org
- Wikipedia — Avicenna (ابتدائی حوالہ) en.wikipedia.org
مزید حوالے: en.wikipedia.org
ہم ماخذ پر مبنی اصل اردو مواد شائع کرتے ہیں۔ غلطی نظر آئے تو اصلاح کی درخواست کریں۔
یہ سوانح مستند ذرائع کی بنیاد پر اصل اردو میں تیار کی گئی ہے۔ حقائق کی تصدیق کی حالت ٹائم لائن میں درج ہے۔ کوئی غلطی نظر آئے تو ہمیں بتائیں — تصدیق کے بعد اصلاح نوٹ کے ساتھ تبدیلی کی جاتی ہے۔