ڈاکٹر عبدالسلام
پاکستان کے پہلے نوبل انعام یافتہ سائنس دان، جنھوں نے برقی مقناطیسی اور کمزور نیوکلیائی قوتوں کے اتحاد کا نظریہ پیش کیا اور ٹریسٹے میں ICTP کی بنیاد رکھی۔
فوری حقائق
- پیدائش
- 29 جنوری 1926ء
- جائے پیدائش
- جھنگ، پنجاب (برطانوی ہند)
- وفات
- 21 نومبر 1996ء
- جائے وفات
- آکسفورڈ، انگلستان
- پیشہ
- نظریاتی طبیعیات دان
- قومیت
- پاکستانی
- تعلیم
- گورنمنٹ کالج لاہور (ایم اے ریاضی)؛ سینٹ جانز کالج، کیمبرج (پی ایچ ڈی نظریاتی طبیعیات)
- تحقیقی میدان
- ذراتی طبیعیات، کوانٹم فیلڈ تھیوری، بنیادی قوتوں کی یکجائی
- اہم ادارے
- امپیریل کالج لندن (پروفیسر، 1957ء سے)؛ ICTP ٹریسٹے (بانی ڈائریکٹر، 1964ء–1993ء)
- سرکاری عہدہ
- صدرِ پاکستان کے چیف سائنسی مشیر، 1961ء–1974ء
- امتیاز
- پہلے پاکستانی اور سائنس کے شعبے میں پہلے مسلمان نوبل انعام یافتہ
- تدفین
- ربوہ (چناب نگر)، پاکستان
- اہم تصانیف / کام
- الیکٹروویک یکجائی کا نظریہ (گلاشو اور وائنبرگ کے ساتھ)، پاٹی–سلام ماڈل (جوگیش پاٹی کے ساتھ، 1974ء)، سپر اسپیس کا تصور (جان اسٹراتھڈی کے ساتھ، 1974ء)، Ideals and Realities: Selected Essays of Abdus Salam
- اعزازات
- نوبل انعام برائے طبیعیات (شیلڈن گلاشو اور اسٹیون وائنبرگ کے ساتھ مشترکہ)، 1979ء، فیلو آف دی رائل سوسائٹی (FRS)، 1959ء، ہیوز میڈل، رائل سوسائٹی، 1964ء، ایٹمز فار پیس ایوارڈ، 1968ء
تعارف
ڈاکٹر عبدالسلام بیسویں صدی کے ممتاز ترین نظریاتی طبیعیات دانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ پہلے پاکستانی اور سائنس کے شعبے میں پہلے مسلمان سائنس دان تھے جنھیں نوبل انعام سے نوازا گیا۔ 1979ء میں انھیں امریکی سائنس دانوں شیلڈن گلاشو اور اسٹیون وائنبرگ کے ساتھ مشترکہ طور پر طبیعیات کا نوبل انعام دیا گیا۔ یہ انعام فطرت کی دو بنیادی قوتوں، برقی مقناطیسی قوت اور کمزور نیوکلیائی قوت، کو ایک ہی نظریے میں سمونے پر دیا گیا۔ انھوں نے ترقی پذیر ملکوں میں سائنس کے فروغ کے لیے اٹلی کے شہر ٹریسٹے میں بین الاقوامی مرکز برائے نظریاتی طبیعیات (ICTP) کی بنیاد بھی رکھی۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
عبدالسلام 29 جنوری 1926ء کو برطانوی ہند کے صوبہ پنجاب کے ضلع جھنگ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد چودھری محمد حسین محکمۂ تعلیم میں ملازم تھے اور گھرانہ متوسط مگر علم دوست تھا۔ گھر میں تعلیم کی قدر تھی اور کم عمری ہی سے عبدالسلام کی غیر معمولی ذہانت نمایاں ہو گئی۔
تعلیم
ابتدائی تعلیم جھنگ میں حاصل کی اور چودہ برس کی عمر میں پنجاب یونیورسٹی کے میٹرک کے امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ 1940ء میں گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا، جہاں سے 1944ء میں بی اے اور 1946ء میں ریاضی میں ایم اے کیا۔ اسی سال وظیفے پر کیمبرج یونیورسٹی کے سینٹ جانز کالج چلے گئے، جہاں 1949ء میں ریاضی اور طبیعیات دونوں میں امتیازی حیثیت (ڈبل فرسٹ) کے ساتھ بی اے کی ڈگری لی۔ اس کے بعد کیوینڈش لیبارٹری میں نظریاتی طبیعیات میں تحقیق شروع کی اور پچاس کی دہائی کے اوائل میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ ان کا تحقیقی مقالہ کوانٹم الیکٹروڈائنامکس میں ری نارملائزیشن کے مسئلے پر تھا۔
عملی زندگی
پی ایچ ڈی کے بعد عبدالسلام 1951ء میں وطن واپس آئے اور گورنمنٹ کالج لاہور میں ریاضی کے پروفیسر اور پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ ریاضی کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ مگر تحقیق کے ماحول کی کمی کے سبب 1954ء میں وہ کیمبرج واپس چلے گئے۔ 1957ء میں وہ لندن کے امپیریل کالج میں نظریاتی طبیعیات کے پروفیسر مقرر ہوئے اور آخر تک اس ادارے سے وابستہ رہے۔
وطن سے دور رہ کر بھی وہ پاکستان سے جڑے رہے۔ 1961ء سے 1974ء تک وہ صدرِ پاکستان کے چیف سائنسی مشیر رہے۔ اس دور میں خلائی تحقیق کے ادارے سپارکو کے قیام اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے فروغ میں ان کا کردار نمایاں تھا۔ عبدالسلام احمدیہ جماعت سے تعلق رکھتے تھے، اور 1974ء میں پاکستان میں آئینی ترمیم کے بعد انھوں نے بطورِ احتجاج حکومتی مشیر کا عہدہ چھوڑ دیا۔
1964ء میں انھوں نے اٹلی کے شہر ٹریسٹے میں بین الاقوامی مرکز برائے نظریاتی طبیعیات کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد ترقی پذیر ممالک کے سائنس دانوں کو عالمی معیار کی تحقیق سے جوڑے رکھنا تھا۔ وہ 1993ء تک اس مرکز کے ڈائریکٹر رہے۔ 1983ء میں انھوں نے ترقی پذیر دنیا کے سائنس دانوں کی اکیڈمی (TWAS) کی بنیاد رکھی اور اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔
اہم کارنامے
عبدالسلام کا سب سے بڑا سائنسی کارنامہ برقی مقناطیسی قوت اور کمزور نیوکلیائی قوت کو ایک متحدہ نظریے، یعنی الیکٹروویک تھیوری، میں یکجا کرنا ہے۔ سادہ الفاظ میں، فطرت میں چار بنیادی قوتیں ہیں؛ عبدالسلام، گلاشو اور وائنبرگ نے الگ الگ کام کرتے ہوئے دکھایا کہ ان میں سے دو قوتیں، جو روزمرہ کی سطح پر بالکل مختلف دکھائی دیتی ہیں، دراصل ایک ہی گہری حقیقت کے دو روپ ہیں۔ اس نظریے نے پیش گوئی کی کہ ذرات کے درمیان ایک نئی قسم کا تعامل، جسے کمزور غیر جانب دار رو کہا جاتا ہے، موجود ہونا چاہیے۔ اس کی تجرباتی تصدیق 1973ء میں سرن میں ہوئی، اور نظریے میں بتائے گئے W اور Z ذرات 1983ء میں دریافت ہوئے۔ یہی کام 1979ء کے نوبل انعام کی بنیاد بنا۔
اس کے علاوہ انھوں نے جوگیش پاٹی کے ساتھ 1974ء میں پاٹی–سلام ماڈل پیش کیا، جو تمام بنیادی قوتوں کی بڑی یکجائی کی ابتدائی کوششوں میں شمار ہوتا ہے۔ جان اسٹراتھڈی کے ساتھ انھوں نے سپرسمیٹری کے میدان میں سپر اسپیس کا تصور متعارف کرایا۔
اہم کام
عبدالسلام نے سیکڑوں تحقیقی مقالے لکھے۔ ان کے خطبات اور مضامین کا مجموعہ Ideals and Realities کے نام سے شائع ہوا، جس میں سائنس، ترقی پذیر دنیا اور اسلامی تہذیب میں علم کی روایت پر ان کے خیالات ملتے ہیں۔ 1990ء میں کیمبرج یونیورسٹی پریس نے ان کا ڈیراک میموریل لیکچر Unification of Fundamental Forces کے نام سے شائع کیا۔
نظریات اور کام کی اہمیت
عبدالسلام کا پختہ یقین تھا کہ سائنس پوری انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے اور کوئی قوم اس سے محروم نہیں رہنی چاہیے۔ وہ بار بار اس بات پر زور دیتے تھے کہ ترقی پذیر ملکوں کی پس ماندگی کی ایک بڑی وجہ سائنس اور ٹیکنالوجی سے دوری ہے۔ ان کے نزدیک مذہب اور سائنس میں کوئی تضاد نہ تھا؛ وہ کائنات کے مطالعے کو دینی فریضہ سمجھتے تھے اور اپنی نوبل تقریب کی تقریر میں بھی انھوں نے قرآن کا حوالہ دیا۔ سائنسی لحاظ سے الیکٹروویک نظریہ اس بڑے سوال کی طرف پہلا تجرباتی طور پر ثابت شدہ قدم تھا کہ کیا فطرت کی تمام قوتیں ایک ہی بنیادی اصول کی شکلیں ہیں؛ آج ذراتی طبیعیات کا معیاری ماڈل اسی بنیاد پر کھڑا ہے۔
میراث اور اثرات
عبدالسلام 21 نومبر 1996ء کو آکسفورڈ میں وفات پا گئے اور انھیں پاکستان میں ربوہ (چناب نگر) میں دفن کیا گیا۔ ان کی وفات کے بعد ٹریسٹے کے مرکز کا نام ان کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔ 2016ء میں حکومتِ پاکستان نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے طبیعیات کے مرکز کو ان کے نام سے منسوب کیا۔ نئی نسل کے پاکستانی سائنس دانوں کے لیے وہ اس بات کی علامت ہیں کہ چھوٹے شہر اور محدود وسائل سے نکلنے والا طالب علم بھی علم کی بلند ترین چوٹی تک پہنچ سکتا ہے۔ ابن سینا اور البیرونی کی طرح عبدالسلام بھی اس روایت کی کڑی ہیں جس میں مسلمان اہلِ علم نے کائنات کو سمجھنے کی کوشش کو عبادت کا درجہ دیا۔
زندگی کی اہم تاریخیں
-
29 جنوری 1926ءجھنگ، پنجاب میں پیدائشماخذ: Nobel Prize
-
1946ءگورنمنٹ کالج لاہور (پنجاب یونیورسٹی) سے ریاضی میں ایم اے؛ کیمبرج روانگیماخذ: Nobel Prize
-
1952ءکیمبرج یونیورسٹی سے نظریاتی طبیعیات میں پی ایچ ڈیتخمینی ماخذ: Nobel Prize
-
1957ءامپیریل کالج لندن میں نظریاتی طبیعیات کے پروفیسر مقررماخذ: Nobel Prize
-
1961ءصدرِ پاکستان کے چیف سائنسی مشیر مقرر (1974ء تک)ماخذ: Britannica
-
1964ءٹریسٹے، اٹلی میں بین الاقوامی مرکز برائے نظریاتی طبیعیات (ICTP) کی بنیادماخذ: ICTP
-
1979ءگلاشو اور وائنبرگ کے ساتھ طبیعیات کا نوبل انعامماخذ: Nobel Prize
-
1983ءترقی پذیر دنیا کی سائنس اکیڈمی (TWAS) کی بنیاد؛ پہلے صدرماخذ: ICTP
-
21 نومبر 1996ءآکسفورڈ، انگلستان میں وفاتماخذ: Britannica
اکثر پوچھے گئے سوالات
ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبل انعام کب اور کس کام پر ملا؟
ڈاکٹر عبدالسلام کو 1979ء میں شیلڈن گلاشو اور اسٹیون وائنبرگ کے ساتھ مشترکہ طور پر طبیعیات کا نوبل انعام دیا گیا۔ یہ انعام برقی مقناطیسی قوت اور کمزور نیوکلیائی قوت کو ایک متحدہ نظریے میں یکجا کرنے پر ملا۔
ڈاکٹر عبدالسلام کب اور کہاں پیدا ہوئے؟
ڈاکٹر عبدالسلام 29 جنوری 1926ء کو برطانوی ہند کے صوبہ پنجاب کے ضلع جھنگ میں پیدا ہوئے۔
ICTP کیا ہے اور عبدالسلام کا اس سے کیا تعلق ہے؟
ICTP (انٹرنیشنل سینٹر فار تھیوریٹیکل فزکس) اٹلی کے شہر ٹریسٹے میں ایک تحقیقی ادارہ ہے جس کی بنیاد ڈاکٹر عبدالسلام نے 1964ء میں رکھی تاکہ ترقی پذیر ملکوں کے سائنس دان جدید تحقیق سے جڑے رہیں۔ وہ 1993ء تک اس کے ڈائریکٹر رہے۔
ڈاکٹر عبدالسلام کا انتقال کب ہوا اور وہ کہاں دفن ہیں؟
ڈاکٹر عبدالسلام کا انتقال 21 نومبر 1996ء کو آکسفورڈ، انگلستان میں ہوا۔ انھیں پاکستان میں ربوہ (چناب نگر) میں دفن کیا گیا۔
ڈاکٹر عبدالسلام پر منتخب کتابیں
اگر آپ اس شخصیت کو مزید سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ کتابیں ایک اچھا آغاز ہیں۔ ہر کتاب کے ساتھ ہماری ایماندار وجہ درج ہے۔
Cosmic Anger: Abdus Salam – The First Muslim Nobel Scientist
آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے شائع ہونے والی تفصیلی اور متوازن سوانح جو عبدالسلام کی سائنس، شخصیت اور پاکستان سے تعلق کو ایک ساتھ بیان کرتی ہے۔
Amazon پر کتاب دیکھیںIdeals and Realities: Selected Essays of Abdus Salam
عبدالسلام کے اپنے مضامین اور خطبات، جن میں سائنس، ترقی پذیر دنیا اور اسلامی تہذیب میں علم کی روایت پر ان کے خیالات براہِ راست پڑھے جا سکتے ہیں۔
Amazon پر کتاب دیکھیںUnification of Fundamental Forces
عبدالسلام کا ڈیراک میموریل لیکچر جس میں وہ بنیادی قوتوں کی یکجائی کے نظریے کو عام فہم انداز میں خود بیان کرتے ہیں۔
Amazon پر کتاب دیکھیںAmazon ایسوسی ایٹ کے طور پر UrduBiography.com اہل خریداریوں سے کمیشن حاصل کر سکتا ہے۔ تفصیل
ذرائع اور حوالہ جات
- The Nobel Prize — Abdus Salam, Biographical www.nobelprize.org
- The Nobel Prize — Abdus Salam, Facts www.nobelprize.org
- Encyclopaedia Britannica — Abdus Salam www.britannica.com
- ICTP — The Abdus Salam International Centre for Theoretical Physics www.ictp.it
- Wikipedia — Abdus Salam (ابتدائی حوالہ) en.wikipedia.org
مزید حوالے: en.wikipedia.org
ہم ماخذ پر مبنی اصل اردو مواد شائع کرتے ہیں۔ غلطی نظر آئے تو اصلاح کی درخواست کریں۔
یہ سوانح مستند ذرائع کی بنیاد پر اصل اردو میں تیار کی گئی ہے۔ حقائق کی تصدیق کی حالت ٹائم لائن میں درج ہے۔ کوئی غلطی نظر آئے تو ہمیں بتائیں — تصدیق کے بعد اصلاح نوٹ کے ساتھ تبدیلی کی جاتی ہے۔