ملالہ یوسفزئی — تعلیمی کارکن، مصنفہ، نوبیل انعام یافتہ
تصویر: flowcomm — Wikimedia Commons (CC BY 2.0)
خواتین شخصیات

ملالہ یوسفزئی

Malala Yousafzai
تعلیمی کارکن، مصنفہ، نوبیل انعام یافتہ
پیدائش: 12 جولائی 1997ء، مینگورہ، سوات، خیبر پختونخوا

سوات سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کی تعلیم کی عالمی کارکن، ملالہ فنڈ کی شریک بانی اور 2014ء میں امن کا نوبیل انعام پانے والی تاریخ کی کم عمر ترین نوبیل انعام یافتہ شخصیت۔

Facebook X
Biographies of living people must be written carefully, respectfully, and with reliable sources. Do not publish private, defamatory, unverified, or sensational claims. پالیسی

فوری حقائق

پیدائش
12 جولائی 1997ء
جائے پیدائش
مینگورہ، سوات، خیبر پختونخوا
پیشہ
تعلیمی کارکن، مصنفہ، نوبیل انعام یافتہ
قومیت
پاکستانی
شعبہ
لڑکیوں کی تعلیم کے حق کی عالمی کارکن
نوبیل انعام
2014ء، سترہ برس کی عمر میں؛ تاریخ کی کم عمر ترین نوبیل انعام یافتہ
ادارہ
ملالہ فنڈ (شریک بانی اور ایگزیکٹو چیئر)
تعلیم
ایجبسٹن ہائی اسکول، برمنگھم؛ آکسفورڈ یونیورسٹی (فلسفہ، سیاسیات، معاشیات، 2020ء)
قلمی نام
گل مکئی (بی بی سی اردو ڈائری، 2009ء)
عالمی دن
12 جولائی، ملالہ ڈے (اقوامِ متحدہ)
اہم تصانیف / کام
I Am Malala (خود نوشت، کرسٹینا لیمب کے ساتھ، 2013ء)، Malala's Magic Pencil (بچوں کے لیے مصور کتاب، 2017ء)، We Are Displaced (2019ء)، ملالہ فنڈ (شریک بانی، 2013ء)
اعزازات
پاکستان کا پہلا قومی امن انعام برائے نوجوان، 2011ء، سخاروف انعام برائے آزادیِ فکر (یورپی پارلیمان)، 2013ء، امن کا نوبیل انعام، 2014ء (کیلاش ستیارتھی کے ساتھ مشترکہ)، اعزازی کینیڈین شہریت، 2017ء

زندہ شخصیت — معلومات وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کی جاتی ہیں۔

تعارف

ملالہ یوسفزئی پاکستان کی وہ بیٹی ہیں جن کا نام آج دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کے حق کی علامت بن چکا ہے۔ 2014ء میں وہ تاریخ کی سب سے کم عمر نوبیل انعام یافتہ شخصیت بنیں۔ وہ ملالہ فنڈ کی شریک بانی ہیں اور دنیا کے مختلف خطوں میں لڑکیوں کی بارہ سالہ معیاری تعلیم کے لیے سرگرم ہیں۔

ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر

ملالہ 12 جولائی 1997ء کو خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں پیدا ہوئیں۔ ان کا نام افغان لوک تاریخ کی بہادر خاتون ملالئی کی نسبت سے رکھا گیا۔ ان کے والد ضیاء الدین یوسفزئی ایک معلم اور تعلیمی کارکن ہیں جو مینگورہ میں اسکول چلاتے تھے۔ 2007ء کے بعد سوات میں طالبان کے اثر و نفوذ نے علاقے کی زندگی بدل دی اور لڑکیوں کے اسکول بند ہونے لگے۔

تعلیم

ملالہ نے ابتدائی تعلیم مینگورہ میں اپنے والد کے اسکول سے حاصل کی۔ 2012ء کے بعد برطانیہ منتقل ہونے پر انھوں نے برمنگھم کے ایجبسٹن ہائی اسکول سے ثانوی تعلیم مکمل کی۔ 2017ء میں انھیں آکسفورڈ یونیورسٹی کے لیڈی مارگریٹ ہال میں داخلہ ملا، جہاں انھوں نے فلسفہ، سیاسیات اور معاشیات (پی پی ای) کی تعلیم حاصل کی اور 2020ء میں گریجویشن مکمل کی۔ یہ وہی کالج اور وہی مضامین ہیں جو بے نظیر بھٹو نے بھی آکسفورڈ میں پڑھے تھے، اور ملالہ نے بے نظیر کو اپنے لیے ایک مثال قرار دیا ہے۔

عملی زندگی

2009ء کے اوائل میں، جب سوات میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کی گئی، ملالہ نے گل مکئی کے قلمی نام سے بی بی سی اردو کے لیے ڈائری لکھنا شروع کی جس میں ایک طالبہ کی روزمرہ زندگی، خوف اور اسکول جانے کی خواہش کو سادہ الفاظ میں بیان کیا گیا۔ یہ ڈائری ملک اور بیرونِ ملک توجہ کا مرکز بنی۔ 2011ء میں جنوبی افریقہ کے آرچ بشپ ڈیسمنڈ ٹوٹو نے انھیں بین الاقوامی چلڈرنز پیس پرائز کے لیے نامزد کیا اور اسی سال حکومتِ پاکستان نے انھیں ملک کا پہلا قومی امن انعام برائے نوجوان عطا کیا۔

9 اکتوبر 2012ء کو اسکول سے واپسی پر ان کی اسکول وین پر حملہ ہوا، جس میں وہ شدید زخمی ہوئیں اور پاکستان میں ابتدائی علاج کے بعد برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال میں صحت یاب ہوئیں۔ اس کے بعد ان کا خاندان برطانیہ میں مقیم ہو گیا۔ 12 جولائی 2013ء کو، اپنی سولہویں سالگرہ پر، انھوں نے اقوامِ متحدہ کی یوتھ اسمبلی سے خطاب کیا جس میں ہر بچے کے لیے تعلیم کا مطالبہ کیا گیا؛ اقوامِ متحدہ نے اس دن کو ملالہ ڈے قرار دیا۔ اسی سال انھوں نے والد کے ساتھ ملالہ فنڈ کی بنیاد رکھی اور برطانوی صحافی کرسٹینا لیمب کے ساتھ اپنی کتاب I Am Malala شائع کی۔

اہم کارنامے

10 اکتوبر 2014ء کو ناروے کی نوبیل کمیٹی نے اعلان کیا کہ امن کا نوبیل انعام ملالہ یوسفزئی اور بھارت کے بچوں کے حقوق کے کارکن کیلاش ستیارتھی کو مشترکہ طور پر دیا جائے گا۔ انعام کی وجہ بچوں اور نوجوانوں پر جبر کے خلاف جدوجہد اور ہر بچے کے تعلیم کے حق کے لیے کام قرار دی گئی۔ سترہ برس کی عمر میں ملالہ نوبیل انعام کی تاریخ کی سب سے کم عمر فاتح بنیں، اور عبدالسلام کے بعد وہ دوسری پاکستانی ہیں جنھیں یہ عالمی اعزاز ملا۔

اس سے پہلے 2013ء میں یورپی پارلیمان نے انھیں آزادیِ فکر کے سخاروف انعام سے نوازا۔ اپریل 2017ء میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے انھیں یو این میسنجر آف پیس مقرر کیا، جو ادارے کا اعلیٰ ترین اعزازی منصب ہے، اور اسی مہینے کینیڈا نے انھیں اعزازی شہریت دی۔ 2015ء میں ان کی زندگی پر دستاویزی فلم He Named Me Malala ریلیز ہوئی۔

اہم کام

ملالہ فنڈ ان کا مرکزی ادارہ ہے جو پاکستان، افغانستان، نائیجیریا، بھارت، برازیل اور دیگر ملکوں میں مقامی تعلیمی کارکنوں کی مالی معاونت کرتا ہے تا کہ لڑکیوں کو بارہ برس کی مفت، محفوظ اور معیاری تعلیم مل سکے۔ ملالہ اس کی شریک بانی اور ایگزیکٹو چیئر ہیں۔ ان کی کتابوں میں خود نوشت I Am Malala (2013ء)، بچوں کے لیے مصور کتاب Malala’s Magic Pencil (2017ء) اور پناہ گزین لڑکیوں کی کہانیوں پر مبنی We Are Displaced (2019ء) شامل ہیں۔

نظریات اور کام کی اہمیت

ملالہ کا بنیادی مؤقف سادہ مگر گہرا ہے: تعلیم کوئی رعایت نہیں بلکہ ہر بچے، خصوصاً ہر بچی، کا بنیادی حق ہے، اور کوئی معاشرہ اپنی آدھی آبادی کو علم سے دور رکھ کر ترقی نہیں کر سکتا۔ وہ تشدد کے جواب میں تشدد کی نہیں بلکہ قلم اور کتاب کی بات کرتی ہیں اور اپنی تقاریر میں بار بار یہ یاد دلاتی ہیں کہ انتہا پسندی کا سب سے مؤثر توڑ ایک پڑھی لکھی نسل ہے۔

میراث اور اثرات

ملالہ ابھی اپنی زندگی اور کام کے ابتدائی مراحل میں ہیں، مگر ان کا اثر پہلے ہی عالمی ہے۔ ان کی کہانی دنیا بھر کے اسکولوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہے اور لڑکیوں کی تعلیم پر عالمی بحث میں ان کا نام ایک حوالے کا درجہ رکھتا ہے۔ پاکستان کے لیے وہ عبدالسلام اور عبدالستار ایدھی کی طرح ان شخصیات میں شامل ہیں جنھوں نے ملک کی ایک مثبت اور انسان دوست تصویر دنیا کے سامنے پیش کی۔ بے نظیر بھٹو اور فاطمہ جناح کی روایت میں وہ پاکستانی خواتین کی اس صف میں کھڑی ہیں جنھوں نے عوامی زندگی میں اپنی آواز سے تاریخ کا رخ متاثر کیا۔ ہر سال 12 جولائی کو ملالہ ڈے کے موقع پر دنیا بھر میں تعلیم کے حق کے لیے آواز بلند کی جاتی ہے۔

زندگی کی اہم تاریخیں

  1. 12 جولائی 1997ء
    سوات کے شہر مینگورہ میں پیدائش
    ماخذ: Nobel Prize
  2. 2009ء
    گل مکئی کے قلمی نام سے بی بی سی اردو کے لیے سوات کی زندگی پر ڈائری
    ماخذ: Britannica
  3. 2011ء
    پاکستان کا پہلا قومی امن انعام برائے نوجوان؛ بین الاقوامی چلڈرنز پیس پرائز کے لیے نامزدگی
    ماخذ: Malala Fund
  4. 9 اکتوبر 2012ء
    سوات میں اسکول وین پر حملے میں شدید زخمی؛ برمنگھم میں علاج
    ماخذ: Britannica
  5. 12 جولائی 2013ء
    اقوامِ متحدہ یوتھ اسمبلی سے خطاب؛ اسی سال ملالہ فنڈ کا قیام اور I Am Malala کی اشاعت
    ماخذ: Malala Fund
  6. 10 اکتوبر 2014ء
    امن کے نوبیل انعام کا اعلان، کیلاش ستیارتھی کے ساتھ مشترکہ
    ماخذ: Nobel Prize
  7. 2017ء
    اقوامِ متحدہ کی پیغامبرِ امن مقرر؛ اعزازی کینیڈین شہریت؛ آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ
    ماخذ: Britannica
  8. 2020ء
    آکسفورڈ یونیورسٹی سے فلسفہ، سیاسیات اور معاشیات میں گریجویشن
    ماخذ: Malala Fund

مشہور اقوال و اشعار

ایک بچہ، ایک استاد، ایک کتاب اور ایک قلم دنیا کو بدل سکتے ہیں۔
ملالہ یوسفزئی ماخذ: اقوامِ متحدہ یوتھ اسمبلی سے خطاب، 12 جولائی 2013ء

اکثر پوچھے گئے سوالات

ملالہ یوسفزئی کب اور کہاں پیدا ہوئیں؟

ملالہ یوسفزئی 12 جولائی 1997ء کو خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے شہر مینگورہ میں پیدا ہوئیں۔

ملالہ کو نوبیل انعام کب اور کیوں ملا؟

اکتوبر 2014ء میں انھیں بچوں اور نوجوانوں پر جبر کے خلاف جدوجہد اور ہر بچے کے تعلیم کے حق کے لیے کام پر بھارت کے کیلاش ستیارتھی کے ساتھ مشترکہ طور پر امن کا نوبیل انعام دیا گیا؛ سترہ برس کی عمر میں وہ تاریخ کی کم عمر ترین نوبیل انعام یافتہ شخصیت بنیں۔

ملالہ فنڈ کیا ہے؟

ملالہ فنڈ وہ ادارہ ہے جس کی بنیاد ملالہ نے 2013ء میں اپنے والد ضیاء الدین یوسفزئی کے ساتھ رکھی؛ یہ دنیا کے مختلف ملکوں میں لڑکیوں کی بارہ سالہ مفت، محفوظ اور معیاری تعلیم کے لیے مقامی تعلیمی کارکنوں کی معاونت کرتا ہے۔

ملالہ کی کتابیں کون سی ہیں؟

ان کی کتابوں میں خود نوشت I Am Malala (2013ء)، بچوں کے لیے Malala's Magic Pencil (2017ء) اور پناہ گزین لڑکیوں کی کہانیوں پر مبنی We Are Displaced (2019ء) شامل ہیں۔

ملالہ نے کہاں تعلیم حاصل کی؟

ابتدائی تعلیم مینگورہ میں، ثانوی تعلیم برمنگھم کے ایجبسٹن ہائی اسکول سے، اور 2020ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے فلسفہ، سیاسیات اور معاشیات میں ڈگری حاصل کی۔

ملالہ یوسفزئی پر منتخب کتابیں

اگر آپ اس شخصیت کو مزید سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ کتابیں ایک اچھا آغاز ہیں۔ ہر کتاب کے ساتھ ہماری ایماندار وجہ درج ہے۔

Amazon ایسوسی ایٹ کے طور پر UrduBiography.com اہل خریداریوں سے کمیشن حاصل کر سکتا ہے۔ تفصیل

ذرائع اور حوالہ جات

  1. NobelPrize.org — Malala Yousafzai, Facts www.nobelprize.org
  2. NobelPrize.org — The Nobel Peace Prize 2014, Press release www.nobelprize.org
  3. Malala Fund — Malala's story malala.org
  4. Encyclopaedia Britannica — Malala Yousafzai www.britannica.com
  5. Wikipedia — Malala Yousafzai (ابتدائی حوالہ) en.wikipedia.org

مزید حوالے: en.wikipedia.org

ہم ماخذ پر مبنی اصل اردو مواد شائع کرتے ہیں۔ غلطی نظر آئے تو اصلاح کی درخواست کریں۔

UrduBiography Editorial Team

یہ سوانح مستند ذرائع کی بنیاد پر اصل اردو میں تیار کی گئی ہے۔ حقائق کی تصدیق کی حالت ٹائم لائن میں درج ہے۔ کوئی غلطی نظر آئے تو ہمیں بتائیں — تصدیق کے بعد اصلاح نوٹ کے ساتھ تبدیلی کی جاتی ہے۔