علامہ محمد اقبال
برصغیر کے عظیم اردو و فارسی شاعر اور فلسفی، جنھیں شاعرِ مشرق اور مفکرِ پاکستان کہا جاتا ہے؛ خودی کے فلسفے اور بانگِ درا، بالِ جبریل جیسے مجموعوں کے خالق۔
فوری حقائق
- پیدائش
- 9 نومبر 1877ء
- جائے پیدائش
- سیالکوٹ، پنجاب
- وفات
- 21 اپریل 1938ء
- جائے وفات
- لاہور
- پیشہ
- شاعر، فلسفی، قانون دان، سیاسی مفکر
- قومیت
- برطانوی ہند
- تعلیم
- گورنمنٹ کالج لاہور (ایم اے فلسفہ)؛ ٹرنٹی کالج کیمبرج؛ میونخ یونیورسٹی (پی ایچ ڈی)؛ لنکنز اِن (بار ایٹ لا)
- مشہور القابات
- شاعرِ مشرق، حکیم الامت، مفکرِ پاکستان
- زبانیں
- اردو اور فارسی (شاعری)؛ انگریزی (نثر و خطبات)
- پیشہ
- وکالت (لاہور)، کچھ عرصہ تدریس
- سیاسی کردار
- رکن پنجاب قانون ساز کونسل (1926ء)؛ خطبۂ الٰہ آباد (1930ء)
- مدفن
- حضوری باغ، بادشاہی مسجد کے پہلو میں، لاہور
- قومی حیثیت
- پاکستان کے قومی شاعر؛ 9 نومبر یومِ اقبال
- اہم تصانیف / کام
- اسرارِ خودی (فارسی، 1915ء)، رموزِ بے خودی (فارسی، 1918ء)، پیامِ مشرق (فارسی، 1923ء)، بانگِ درا (اردو، 1924ء)
- اعزازات
- نائٹ ہُڈ — «سر» کا خطاب، برطانوی حکومت (1923ء کے نئے سال کے اعزازات؛ اعلان دسمبر 1922ء)
تعارف
علامہ محمد اقبال اردو اور فارسی کے اُن چند شاعروں میں سے ہیں جن کی شاعری محض ادب نہیں بلکہ ایک مکمل فکری نظام ہے۔ وہ شاعر بھی تھے، فلسفی بھی، قانون دان بھی اور بیسویں صدی کے ہندوستانی مسلمانوں کے سیاسی شعور کی تشکیل میں شریک بھی۔ برصغیر میں انھیں شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور مفکرِ پاکستان کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے، اور پاکستان میں وہ قومی شاعر کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری کا مرکزی موضوع خودی ہے۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
اقبال 9 نومبر 1877ء کو پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان کشمیری برہمنوں کی اولاد تھا جو کئی نسلیں پہلے اسلام قبول کر کے پنجاب میں آباد ہو گیا تھا۔ والد شیخ نور محمد ایک دین دار اور صوفیانہ مزاج رکھنے والے درزی اور چھوٹے تاجر تھے، جن کی مذہبی وابستگی نے اقبال کے ذہن پر گہرا نقش چھوڑا۔ والدہ امام بی بی کی نرم دلی اور دعاؤں کا ذکر اقبال نے خود اپنی نظم «والدہ مرحومہ کی یاد میں» کے ذریعے کیا ہے۔
تعلیم
ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں ہوئی، جہاں سکاچ مشن اسکول اور بعد ازاں اسی ادارے کے کالج (موجودہ مرے کالج) میں انھیں شمس العلماء سید میر حسن جیسے استاد ملے، جنھوں نے عربی، فارسی اور مشرقی علوم کا ذوق پیدا کیا۔ 1895ء میں اقبال لاہور آئے اور گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا، جہاں مشہور مستشرق سر ٹامس آرنلڈ نے ان کے فلسفیانہ رجحان کو جِلا بخشی۔ یہاں سے انھوں نے فلسفہ میں ایم اے کیا اور کچھ عرصہ اورینٹل کالج اور گورنمنٹ کالج میں تدریس کی۔ 1905ء میں وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ گئے۔ کیمبرج کے ٹرنٹی کالج سے ڈگری لی، لنکنز اِن سے بار ایٹ لا کیا، اور جرمنی کی میونخ یونیورسٹی سے «ایران میں مابعد الطبیعیات کا ارتقا» کے موضوع پر 1907ء میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔
عملی زندگی
1908ء میں وطن واپسی کے بعد اقبال نے لاہور میں وکالت شروع کی، جو زندگی کے آخر تک ان کی معاش کا ذریعہ رہی؛ کچھ عرصہ گورنمنٹ کالج میں فلسفے کی تدریس بھی کی۔ وہ لاہور کی علمی و ادبی زندگی کا مرکز بن گئے؛ انجمنِ حمایتِ اسلام کے سالانہ اجلاسوں میں ان کی نظموں کی قرأت ایک قومی واقعہ بن جاتی تھی، اور «شکوہ» اور «جوابِ شکوہ» جیسی نظمیں اسی دور میں عام مسلمانوں کے دلوں تک پہنچیں۔
سیاست میں اقبال نے محتاط مگر مؤثر حصہ لیا۔ 1926ء میں وہ پنجاب کی قانون ساز کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔ 1930ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے الٰہ آباد اجلاس کی صدارت کی اور وہ تاریخی خطبہ دیا جس میں شمال مغربی ہندوستان کے مسلم اکثریتی علاقوں کے لیے ایک متحدہ وحدت کا تصور پیش کیا گیا۔ زندگی کے آخری برسوں میں محمد علی جناح کے نام ان کے خطوط نے مسلم لیگ کی سیاست کو فکری سمت دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ 21 اپریل 1938ء کو لاہور میں ان کا انتقال ہوا اور وہ بادشاہی مسجد کے پہلو میں، حضوری باغ کے قریب دفن ہوئے۔
اہم کارنامے
- اردو اور فارسی شاعری کو فکری اور فلسفیانہ گہرائی دی اور «خودی» کا تصور ایک مکمل نظریۂ حیات کی صورت میں پیش کیا۔
- انگریزی خطبات «تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ» میں اسلامی فکر کو جدید فلسفے اور سائنس کے سامنے رکھ کر ازسرِنو مرتب کرنے کی کوشش کی۔
- خطبۂ الٰہ آباد (1930ء) کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کا ایک واضح خاکہ دیا، جو بعد میں پاکستان کے تصور سے جوڑا گیا۔
- برطانوی حکومت کی طرف سے «سر» کا خطاب ملا؛ روایت ہے کہ انھوں نے اسے اپنے استاد میر حسن کے لیے «شمس العلماء» کے خطاب کی شرط کے ساتھ قبول کیا۔
اہم تصانیف
اقبال کی اردو شاعری چار مجموعوں میں ہے: بانگِ درا (1924ء)، بالِ جبریل (1935ء)، ضربِ کلیم (1936ء) اور وفات کے بعد شائع ہونے والا ارمغانِ حجاز (1938ء)، جس میں فارسی اور اردو دونوں کا کلام ہے۔ فارسی مجموعوں میں اسرارِ خودی (1915ء)، رموزِ بے خودی (1918ء)، پیامِ مشرق (1923ء)، زبورِ عجم (1927ء) اور جاوید نامہ (1932ء) خاص طور پر اہم ہیں۔ نثر میں ان کا ڈاکٹریٹ کا مقالہ «دی ڈیویلپمنٹ آف میٹافزکس اِن پرشیا» (1908ء) اور انگریزی خطبات «دی ری کنسٹرکشن آف ریلیجس تھاٹ اِن اسلام» (1930ء) بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
نظریات اور کام کی اہمیت
اقبال کی فکر کا محور انسان کی خودی، عمل اور حرکت ہے۔ وہ جمود، تقدیر پرستی اور رہبانیت کو مسلم معاشرے کے زوال کی جڑ سمجھتے تھے اور ایک ایسے فردِ کامل کا تصور پیش کرتے تھے جو عشق، یقین اور عمل کے ذریعے اپنی تقدیر خود بناتا ہے۔ انھوں نے مولانا رومی کو اپنا روحانی رہبر کہا اور اسلامی تصوف کی فعال روایت کو مغربی فلسفے، خصوصاً نطشے اور برگساں کے مطالعے سے ملا کر ایک نئی فکری زبان تراشی۔ ان کے نزدیک قومیت کی بنیاد جغرافیہ نہیں بلکہ عقیدہ اور تہذیب تھی۔ شاعری کے لحاظ سے اقبال نے اردو نظم کو حالی کے بعد اس مقام تک پہنچایا جہاں وہ فلسفیانہ خیال کا بوجھ اٹھا سکے۔
میراث اور اثرات
اقبال کا اثر ادب، فکر اور سیاست تینوں میدانوں میں آج تک محسوس کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں 9 نومبر یومِ اقبال کے طور پر منایا جاتا ہے، لاہور میں اقبال اکادمی پاکستان ان کے کام کی اشاعت اور تحقیق کا ادارہ ہے، اور ان کے مزار پر آج بھی لوگ حاضری دیتے ہیں۔ ایران، ترکی، وسطی ایشیا اور عرب دنیا میں بھی ان کی فارسی شاعری کا مطالعہ ہوتا ہے، اور ایران میں انھیں «اقبالِ لاہوری» کے نام سے خاص قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ فیض احمد فیض سے لے کر آج کے شاعروں تک، اردو کی سنجیدہ نظم کا ہر بڑا نام کسی نہ کسی طور اقبال سے مکالمہ کرتا دکھائی دیتا ہے، اور ان کے اشعار آج بھی عام گفتگو، تقریر اور درس گاہ کا حصہ ہیں۔
زندگی کی اہم تاریخیں
-
9 نومبر 1877ءسیالکوٹ میں پیدائشماخذ: Iqbal Academy Pakistan
-
1895ءگورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ؛ سر ٹامس آرنلڈ سے استفادہماخذ: Iqbal Academy Pakistan
-
1905ءاعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ (کیمبرج) روانگیماخذ: Britannica
-
1907ءمیونخ یونیورسٹی سے فلسفے میں ڈاکٹریٹماخذ: Britannica
-
1908ءبار ایٹ لا کے بعد لاہور واپسی اور وکالت کا آغازماخذ: Iqbal Academy Pakistan
-
1915ءپہلا فارسی مجموعہ اسرارِ خودی شائع ہواماخذ: Britannica
-
1924ءاردو کا پہلا مجموعہ بانگِ درا شائع ہواماخذ: Iqbal Academy Pakistan
-
29 دسمبر 1930ءآل انڈیا مسلم لیگ کے الٰہ آباد اجلاس کا تاریخی صدارتی خطبہماخذ: Britannica
-
21 اپریل 1938ءلاہور میں وفات؛ بادشاہی مسجد کے پہلو میں تدفینماخذ: Iqbal Academy Pakistan
مشہور اقوال و اشعار
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
اکثر پوچھے گئے سوالات
علامہ اقبال کب اور کہاں پیدا ہوئے؟
علامہ اقبال 9 نومبر 1877ء کو پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔
علامہ اقبال کی مشہور کتابیں کون سی ہیں؟
اردو میں بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز؛ فارسی میں اسرارِ خودی، پیامِ مشرق اور جاوید نامہ؛ انگریزی میں خطبات The Reconstruction of Religious Thought in Islam۔
اقبال کو شاعرِ مشرق کیوں کہا جاتا ہے؟
کیونکہ ان کی اردو اور فارسی شاعری نے مشرقی اقوام، خصوصاً مسلمانوں، کو خودی اور بیداری کا پیغام دیا اور ایران، ترکی اور وسطی ایشیا تک پڑھی اور سراہی گئی۔
خطبۂ الٰہ آباد کیا ہے؟
29 دسمبر 1930ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے الٰہ آباد اجلاس میں اقبال کا صدارتی خطبہ، جس میں شمال مغربی ہندوستان کے مسلم اکثریتی علاقوں کے لیے ایک متحدہ وحدت کا تصور پیش کیا گیا۔
علامہ اقبال کا انتقال کب ہوا اور وہ کہاں دفن ہیں؟
ان کا انتقال 21 اپریل 1938ء کو لاہور میں ہوا؛ ان کا مزار بادشاہی مسجد کے پہلو میں حضوری باغ کے قریب ہے۔
علامہ محمد اقبال پر منتخب کتابیں
اگر آپ اس شخصیت کو مزید سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ کتابیں ایک اچھا آغاز ہیں۔ ہر کتاب کے ساتھ ہماری ایماندار وجہ درج ہے۔
کلیاتِ اقبال (اردو)
اقبال کے چاروں اردو مجموعے ایک جلد میں؛ ان کی شاعری کو براہِ راست پڑھنے کے لیے بنیادی کتاب۔
Amazon پر کتاب دیکھیںبانگِ درا
اقبال کا پہلا اردو مجموعہ، جس میں شکوہ، جوابِ شکوہ اور ترانۂ ہندی جیسی مشہور نظمیں شامل ہیں۔
Amazon پر کتاب دیکھیںThe Reconstruction of Religious Thought in Islam
اقبال کے انگریزی خطبات، جو ان کے فلسفیانہ نظام کو سمجھنے کا سب سے مستند ذریعہ ہیں۔
Amazon پر کتاب دیکھیںزندہ رود
اقبال کے بیٹے جسٹس جاوید اقبال کی لکھی ہوئی تفصیلی سوانح، جو خاندانی ذرائع اور دستاویزات پر مبنی ہے۔
Amazon پر کتاب دیکھیںAmazon ایسوسی ایٹ کے طور پر UrduBiography.com اہل خریداریوں سے کمیشن حاصل کر سکتا ہے۔ تفصیل
ذرائع اور حوالہ جات
- Encyclopaedia Britannica — Muhammad Iqbal www.britannica.com
- Iqbal Academy Pakistan — Allama Iqbal (official site) www.allamaiqbal.com
- International Iqbal Society — Allama Iqbal: life, works and timeline www.iqbal.com.pk
- Rekhta — Allama Iqbal (poet profile) www.rekhta.org
- Wikipedia — Muhammad Iqbal (ابتدائی حوالہ) en.wikipedia.org
مزید حوالے: en.wikipedia.org
ہم ماخذ پر مبنی اصل اردو مواد شائع کرتے ہیں۔ غلطی نظر آئے تو اصلاح کی درخواست کریں۔
یہ سوانح مستند ذرائع کی بنیاد پر اصل اردو میں تیار کی گئی ہے۔ حقائق کی تصدیق کی حالت ٹائم لائن میں درج ہے۔ کوئی غلطی نظر آئے تو ہمیں بتائیں — تصدیق کے بعد اصلاح نوٹ کے ساتھ تبدیلی کی جاتی ہے۔