دلیپ کمار
پشاور میں پیدا ہونے والے ہندی سنیما کے عظیم اداکار جنھوں نے دیوداس، مغلِ اعظم اور گنگا جمنا جیسی فلموں سے اداکاری کا معیار قائم کیا اور ٹریجڈی کنگ کہلائے۔
فوری حقائق
- پیدائش
- 11 دسمبر 1922ء
- جائے پیدائش
- پشاور (برطانوی ہند، موجودہ پاکستان)
- وفات
- 7 جولائی 2021ء
- جائے وفات
- ممبئی، بھارت
- پیشہ
- اداکار، فلم پروڈیوسر، سیاسی و سماجی شخصیت
- قومیت
- بھارتی
- اصل نام
- محمد یوسف خان
- مشہور لقب
- ٹریجڈی کنگ
- پہلی فلم
- جوار بھاٹا (1944ء)
- آخری فلم
- قلعہ (1998ء)
- فلم فیئر ایوارڈ
- بہترین اداکار، آٹھ مرتبہ (ریکارڈ)
- شریکِ حیات
- اداکارہ سائرہ بانو (شادی 1966ء)
- پارلیمانی کردار
- رکن راجیہ سبھا، 2000ء–2006ء
- اہم تصانیف / کام
- جوار بھاٹا (1944ء)، جگنو (1947ء)، انداز (1949ء)، آن (1952ء)
- اعزازات
- فلم فیئر بہترین اداکار ایوارڈ (آٹھ مرتبہ؛ پہلا 1954ء میں فلم داغ کے لیے)، پدم بھوشن، 1991ء، فلم فیئر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ، 1993ء، دادا صاحب پھالکے ایوارڈ، 1994ء
تعارف
دلیپ کمار برِصغیر کی فلمی تاریخ کے وہ اداکار ہیں جنھیں ہندی سنیما میں اداکاری کے فن کا معیار قرار دیا جاتا ہے۔ پشاور کے قصہ خوانی بازار کے علاقے میں محمد یوسف خان کے نام سے پیدا ہونے والے اس فنکار نے پانچ دہائیوں سے زائد عرصے تک پردۂ سیمیں پر راج کیا۔ دیوداس، مغلِ اعظم، گنگا جمنا اور نیا دور جیسی فلموں میں ان کی اداکاری نے ایک پوری نسل کے فنکاروں کو متاثر کیا۔ المیہ کرداروں میں ان کی مہارت نے انھیں ٹریجڈی کنگ کا لقب دیا اور فلم فیئر کا بہترین اداکار کا ایوارڈ آٹھ مرتبہ جیتنے کا ریکارڈ بھی انھی کے نام رہا۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
دلیپ کمار 11 دسمبر 1922ء کو پشاور (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد لالہ غلام سرور خان پھلوں کے تاجر تھے اور یہ بڑا کنبہ قصہ خوانی بازار کے محلے میں رہتا تھا، جہاں کپور خاندان ان کے ہمسائے تھے؛ راج کپور کے ساتھ ان کی رفاقت بچپن ہی سے تھی۔ 1930ء کی دہائی کے آخر میں یہ خاندان کاروبار کے سلسلے میں پہلے دیولالی اور پھر بمبئی منتقل ہو گیا۔
تعلیم
یوسف خان نے تعلیم دیولالی کے بارنس اسکول سے حاصل کی۔ وہ فلم کے شعبے میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے؛ کھیلوں اور مطالعے سے دلچسپی تھی اور نوجوانی میں والد سے اختلاف کے بعد وہ پونے چلے گئے، جہاں انھوں نے برطانوی فوج کی کینٹین میں ملازمت کی اور چھوٹے پیمانے پر کاروبار بھی کیا۔
عملی زندگی
فلمی دنیا میں ان کی آمد ایک اتفاق تھی۔ بمبئی ٹاکیز کی سربراہ دیویکا رانی نے انھیں دیکھا اور ادارے میں ملازمت کی پیشکش کی؛ انھی کے مشورے پر یوسف خان نے دلیپ کمار کا فلمی نام اختیار کیا۔ 1944ء میں فلم جوار بھاٹا سے آغاز ہوا، جو کامیاب نہ ہو سکی۔ اصل پہچان جگنو (1947ء) سے ملی اور پھر شہید، میلہ اور انداز (1949ء) نے انھیں صفِ اوّل کے ستاروں میں شامل کر دیا۔ 1950ء کی دہائی ان کے فن کا عروج تھی: دیدار، داغ، آن، دیوداس، آزاد، نیا دور، مدھومتی اور یہودی جیسی فلموں میں انھوں نے المیہ، رومانی اور مزاحیہ، ہر طرح کے کردار کامیابی سے نبھائے۔
1960ء میں کے آصف کی تاریخی فلم مغلِ اعظم میں شہزادہ سلیم کا کردار ان کے کیریئر کا سنگِ میل بن گیا۔ اگلے برس انھوں نے گنگا جمنا خود پروڈیوس کی۔ لیڈر، رام اور شیام، آدمی اور گوپی کے بعد انھوں نے فلموں سے کچھ عرصہ وقفہ لیا اور 1981ء میں کرانتی سے دوبارہ لوٹے۔ اس دوسرے دور میں شکتی (1982ء)، مشعل، کرما اور سوداگر (1991ء) میں بزرگ کرداروں کو انھوں نے اتنی ہی قوت سے پیش کیا۔ ان کی آخری فلم قلعہ 1998ء میں ریلیز ہوئی۔
1966ء میں ان کی شادی اداکارہ سائرہ بانو سے ہوئی۔ 1980ء میں وہ بمبئی کے اعزازی شیرف مقرر ہوئے اور 2000ء سے 2006ء تک بھارتی پارلیمان کے ایوانِ بالا راجیہ سبھا کے نامزد رکن رہے۔ 7 جولائی 2021ء کو 98 برس کی عمر میں ممبئی میں ان کا انتقال ہوا۔
اہم کارنامے
دلیپ کمار کو ہندی سنیما میں میتھڈ ایکٹنگ، یعنی کردار میں اندر تک اتر جانے والی فطری اداکاری کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ 1954ء میں جب فلم فیئر ایوارڈز کا آغاز ہوا تو بہترین اداکار کا پہلا ایوارڈ انھیں داغ کے لیے ملا۔ بعد میں آزاد، دیوداس، نیا دور، کوہِ نور، لیڈر، رام اور شیام اور شکتی کے لیے بھی یہ اعزاز حاصل کیا؛ آٹھ ایوارڈز کا یہ ریکارڈ دہائیوں تک قائم رہا اور بعد میں شاہ رخ خان نے اس کی برابری کی۔ المیہ کرداروں کے مسلسل ذہنی دباؤ کے بعد ماہرین کے مشورے پر انھوں نے ہلکے پھلکے کردار بھی اپنائے، اور آزاد اور کوہِ نور میں ثابت کیا کہ مزاح پر بھی ان کی گرفت اتنی ہی مضبوط ہے۔
اہم کام
ان کی نمایاں فلموں میں جوار بھاٹا (1944ء)، جگنو (1947ء)، انداز (1949ء)، آن (1952ء)، دیوداس (1955ء)، نیا دور (1957ء)، مدھومتی (1958ء)، مغلِ اعظم (1960ء)، گنگا جمنا (1961ء)، رام اور شیام (1967ء)، شکتی (1982ء)، کرما (1986ء) اور سوداگر (1991ء) شامل ہیں۔ 2014ء میں ان کی خود نوشت The Substance and the Shadow شائع ہوئی، جو ادیہ تارا نائر کے ساتھ مل کر لکھی گئی اور جس میں پشاور سے بمبئی تک کے سفر کی تفصیل ملتی ہے۔
نظریات اور کام کی اہمیت
دلیپ کمار اردو زبان اور شاعری کے دلدادہ تھے اور ان کے مکالموں کی ادائیگی میں اردو کا ٹھہراؤ اور نفاست نمایاں تھی۔ وہ ایک کردار کے لیے مہینوں تیاری کرتے، اس کی چال، لہجے اور پس منظر کو سمجھتے، اور مکالموں میں اپنی رائے دیتے تھے۔ ان کا یہ یقین کہ اداکار کو کردار کے پیچھے چھپ جانا چاہیے، آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنا۔ امیتابھ بچن اور شاہ رخ خان سمیت متعدد اداکاروں نے انھیں اپنا استاد تسلیم کیا ہے۔
میراث اور اثرات
بھارت نے انھیں 1991ء میں پدم بھوشن، 1994ء میں فلمی دنیا کے سب سے بڑے اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ اور 2015ء میں پدم وبھوشن سے نوازا۔ 1998ء میں حکومتِ پاکستان نے انھیں نشانِ امتیاز دیا، جو کسی بھارتی فنکار کے لیے ایک غیر معمولی اعزاز تھا اور دونوں ملکوں کے مشترکہ ثقافتی ورثے کی علامت بن گیا۔ پشاور میں ان کے آبائی گھر کو قومی ورثہ قرار دیا گیا ہے۔ سعادت حسن منٹو کی طرح دلیپ کمار بھی اس بمبئی کی یادگار ہیں جہاں تقسیم سے پہلے اور بعد، اردو بولنے والے فنکاروں نے ہندی سنیما کی زبان اور مزاج کو تشکیل دیا۔ ان کی فلمیں آج بھی اداکاری کے طالب علموں کے لیے نصاب کا درجہ رکھتی ہیں۔
زندگی کی اہم تاریخیں
-
11 دسمبر 1922ءپشاور کے قصہ خوانی بازار کے علاقے میں محمد یوسف خان کے نام سے پیدائشماخذ: Britannica
-
1944ءبمبئی ٹاکیز کی فلم جوار بھاٹا سے فلمی آغازماخذ: Britannica
-
1949ءفلم انداز کی کامیابی؛ صفِ اوّل کے ستاروں میں شمولیتماخذ: Britannica
-
1954ءفلم داغ کے لیے فلم فیئر کا پہلا بہترین اداکار ایوارڈماخذ: Britannica
-
1960ءمغلِ اعظم میں شہزادہ سلیم کا کردارماخذ: Britannica
-
1980ءشیرف آف بمبئی کے اعزازی منصب پر تقرریماخذ: IMDb
-
1994ءبھارتی سنیما کا سب سے بڑا اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈماخذ: Britannica
-
1998ءحکومتِ پاکستان کی طرف سے نشانِ امتیاز؛ آخری فلم قلعہ ریلیزماخذ: Britannica
-
7 جولائی 2021ءممبئی میں 98 برس کی عمر میں انتقالماخذ: Britannica
اکثر پوچھے گئے سوالات
دلیپ کمار کا اصل نام کیا تھا اور وہ کہاں پیدا ہوئے؟
دلیپ کمار کا اصل نام محمد یوسف خان تھا۔ وہ 11 دسمبر 1922ء کو پشاور کے قصہ خوانی بازار کے علاقے میں پیدا ہوئے، جو اب پاکستان میں ہے۔
دلیپ کمار کی مشہور فلمیں کون سی ہیں؟
انداز، آن، دیوداس، نیا دور، مدھومتی، مغلِ اعظم، گنگا جمنا، رام اور شیام، شکتی اور کرما ان کی سب سے مشہور فلموں میں شامل ہیں۔
دلیپ کمار کو ٹریجڈی کنگ کیوں کہا جاتا ہے؟
1950ء کی دہائی میں دیوداس اور دیدار جیسی فلموں میں المیہ کرداروں کی غیر معمولی اداکاری کی وجہ سے انھیں ٹریجڈی کنگ کا لقب ملا۔
دلیپ کمار نے کتنے فلم فیئر ایوارڈ جیتے؟
انھوں نے بہترین اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ آٹھ مرتبہ جیتا، جو ایک ریکارڈ ہے؛ بعد میں شاہ رخ خان نے اس کی برابری کی۔
دلیپ کمار کا انتقال کب ہوا؟
دلیپ کمار 7 جولائی 2021ء کو ممبئی میں 98 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
دلیپ کمار پر منتخب کتابیں
اگر آپ اس شخصیت کو مزید سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ کتابیں ایک اچھا آغاز ہیں۔ ہر کتاب کے ساتھ ہماری ایماندار وجہ درج ہے۔
Dilip Kumar: The Substance and the Shadow
دلیپ کمار کی اپنی زبانی خود نوشت جس میں پشاور کے بچپن سے بمبئی کی فلمی دنیا تک کا سفر بیان ہوا ہے۔
Amazon پر کتاب دیکھیںDilip Kumar: The Last Emperor
ایک فلمی مورخ کی لکھی ہوئی سوانح جو دلیپ کمار کے فن اور فلموں کا سنجیدہ جائزہ پیش کرتی ہے۔
Amazon پر کتاب دیکھیںAmazon ایسوسی ایٹ کے طور پر UrduBiography.com اہل خریداریوں سے کمیشن حاصل کر سکتا ہے۔ تفصیل
ذرائع اور حوالہ جات
- Encyclopaedia Britannica — Dilip Kumar www.britannica.com
- IMDb — Dilip Kumar www.imdb.com
- Wikipedia — Dilip Kumar (ابتدائی حوالہ) en.wikipedia.org
مزید حوالے: en.wikipedia.org
ہم ماخذ پر مبنی اصل اردو مواد شائع کرتے ہیں۔ غلطی نظر آئے تو اصلاح کی درخواست کریں۔
یہ سوانح مستند ذرائع کی بنیاد پر اصل اردو میں تیار کی گئی ہے۔ حقائق کی تصدیق کی حالت ٹائم لائن میں درج ہے۔ کوئی غلطی نظر آئے تو ہمیں بتائیں — تصدیق کے بعد اصلاح نوٹ کے ساتھ تبدیلی کی جاتی ہے۔