کرکٹرز

حنیف محمد

Hanif Mohammad
کرکٹر (بیٹسمین)، کپتان پاکستان کرکٹ ٹیم
پیدائش: 21 دسمبر 1934ء، جوناگڈھ، گجرات (برطانوی ہند) وفات: 11 اگست 2016ء، کراچی

پاکستان کرکٹ کے پہلے عظیم بیٹسمین اور اصل لٹل ماسٹر، جنھوں نے 1958ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 337 رنز اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں 499 رنز کی تاریخی اننگز کھیلیں۔

Facebook X

فوری حقائق

پیدائش
21 دسمبر 1934ء
جائے پیدائش
جوناگڈھ، گجرات (برطانوی ہند)
وفات
11 اگست 2016ء
جائے وفات
کراچی
پیشہ
کرکٹر (بیٹسمین)، کپتان پاکستان کرکٹ ٹیم
قومیت
پاکستانی
لقب
لٹل ماسٹر
کھیل کا انداز
دائیں ہاتھ کے اوپننگ بیٹسمین؛ ابتدائی ٹیسٹ میچوں میں وکٹ کیپر بھی
ٹیسٹ کیریئر
1952ء–1969ء؛ 55 میچ، 3915 رنز، 12 سنچریاں
سب سے بڑی اننگز
337 (ٹیسٹ)، 499 (فرسٹ کلاس)
کپتانی
11 ٹیسٹ میچ (1964ء–1967ء)
کرکٹر خاندان
بھائی وزیر، مشتاق اور صادق محمد اور بیٹا شعیب محمد، سب ٹیسٹ کرکٹر
ٹیمیں
پاکستان، کراچی، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز
اہم تصانیف / کام
337 رنز بمقابلہ ویسٹ انڈیز، برج ٹاؤن، 1958ء (970 منٹ کی اننگز)، 499 رنز، کراچی بمقابلہ بہاولپور، 1959ء (فرسٹ کلاس کرکٹ کا عالمی ریکارڈ، 1994ء تک)، 187 ناٹ آؤٹ بمقابلہ انگلستان، لارڈز، 1967ء، ٹیسٹ کرکٹ: 55 میچ، 3915 رنز، 12 سنچریاں
اعزازات
وزڈن کرکٹر آف دی ایئر، 1968ء، صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی (Pride of Performance)، آئی سی سی کرکٹ ہال آف فیم، 2009ء

تعارف

حنیف محمد پاکستان کرکٹ کے پہلے عظیم بیٹسمین اور لٹل ماسٹر کے لقب سے پہچانے جانے والے کھلاڑی ہیں۔ ایک نوزائیدہ ملک کی نوزائیدہ ٹیم کو عالمی کرکٹ میں عزت دلانے میں جو کردار انھوں نے ادا کیا، اس کی گواہی 1958ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 337 رنز کی تاریخی اننگز اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں 499 رنز کا وہ ریکارڈ دیتا ہے جو پینتیس برس تک قائم رہا۔

ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر

حنیف محمد 21 دسمبر 1934ء کو ریاست جوناگڈھ (موجودہ گجرات، بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جس نے برِصغیر کی کرکٹ کو کئی نامور کھلاڑی دیے۔ ان کی والدہ امیر بی خود کھیلوں کی شوقین تھیں اور بیڈمنٹن اور کیرم میں مقامی سطح پر چیمپیئن رہی تھیں۔ پانچ بھائیوں میں سے چار، وزیر محمد، حنیف محمد، مشتاق محمد اور صادق محمد، نے پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کی نمائندگی کی، جب کہ رئیس محمد فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلے۔ 1947ء میں تقسیم کے بعد خاندان کراچی منتقل ہو گیا اور یہی شہر حنیف کی کرکٹ کا گھر بنا۔ بعد میں ان کے بیٹے شعیب محمد نے بھی پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ کھیلی۔

تعلیم

کراچی میں حنیف محمد نے سندھ مدرسۃ الاسلام میں تعلیم حاصل کی، وہی تاریخی درسگاہ جس سے قائداعظم محمد علی جناح نے بھی تعلیم پائی تھی۔ اسکول کی سطح پر ہی ان کی بیٹنگ کی صلاحیت نمایاں ہو گئی اور وہ تعلیمی اداروں کی کرکٹ میں بڑے اسکور بنانے لگے۔ یہیں سے وہ کراچی کی علاقائی ٹیم اور پھر قومی ٹیم تک پہنچے۔

عملی زندگی

پاکستان کو 1952ء میں ٹیسٹ درجہ ملا اور اکتوبر 1952ء میں دہلی کے مقام پر بھارت کے خلاف ملک کے پہلے ٹیسٹ میچ میں سترہ برس کے حنیف محمد نے اوپننگ بیٹسمین اور وکٹ کیپر کے طور پر میدان میں قدم رکھا۔ اس کے بعد تقریباً سترہ برس تک وہ پاکستانی بیٹنگ کی ریڑھ کی ہڈی رہے۔ 1954ء کے دورۂ انگلستان، سے لے کر 1969ء میں ریٹائرمنٹ تک انھوں نے 55 ٹیسٹ میچوں میں 3915 رنز بنائے جن میں 12 سنچریاں شامل تھیں۔ 1964ء سے 1967ء تک وہ گیارہ ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کے کپتان بھی رہے۔

ملکی کرکٹ میں وہ کراچی اور پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی نمائندگی کرتے رہے۔ کرکٹ سے الگ ہونے کے بعد انھوں نے کھیل کی خدمت صحافت کے ذریعے جاری رکھی اور پاکستان کے کرکٹ رسالے دی کرکٹر سے مدیر کے طور پر وابستہ رہے۔ 11 اگست 2016ء کو وہ کراچی میں انتقال کر گئے۔

اہم کارنامے

جنوری 1958ء میں برج ٹاؤن، بارباڈوس کے کینسنگٹن اوول پر ویسٹ انڈیز کے خلاف حنیف محمد نے وہ اننگز کھیلی جو کرکٹ کی تاریخ میں صبر کی علامت بن گئی۔ پاکستان کو فالو آن کا سامنا تھا اور شکست یقینی نظر آتی تھی؛ حنیف نے 970 منٹ، یعنی سولہ گھنٹے سے زائد، کریز پر گزار کر 337 رنز بنائے اور میچ ڈرا کرا دیا۔ وقت کے لحاظ سے یہ آج بھی فرسٹ کلاس کرکٹ کی طویل ترین اننگز ہے اور ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی طرف سے پہلی ٹرپل سنچری تھی۔

ایک سال بعد، جنوری 1959ء میں کراچی میں بہاولپور کے خلاف قائداعظم ٹرافی کے میچ میں انھوں نے 499 رنز بنائے اور پانچ سوواں رن مکمل کرنے کی کوشش میں رن آؤٹ ہوئے۔ یہ فرسٹ کلاس کرکٹ کی سب سے بڑی انفرادی اننگز کا عالمی ریکارڈ تھا جو 1994ء میں برائن لارا کے 501 ناٹ آؤٹ تک قائم رہا۔ 1967ء میں لارڈز کے میدان پر انگلستان کے خلاف 187 ناٹ آؤٹ کی اننگز بھی ان کی دفاعی مہارت کی یادگار ہے۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں انھوں نے سترہ ہزار سے زائد رنز اور 55 سنچریاں بنائیں۔

اہم کام

حنیف محمد کے کھیل کی بنیاد ناقابلِ تسخیر دفاع، گیند کو دیر تک دیکھنے کی صلاحیت اور غیر معمولی ارتکاز پر تھی۔ ایک ایسے دور میں جب پاکستان کی بیٹنگ ناتجربہ کار تھی، وہ اکیلے اننگز کو سہارا دیتے اور گھنٹوں وکٹ پر ٹھہرتے۔ وہ دونوں ہاتھوں سے اسپن گیند بازی بھی کر سکتے تھے، اور ابتدائی ٹیسٹ میچوں میں وکٹ کیپنگ کی ذمے داری بھی انھی کے سپرد تھی۔ 1968ء میں وزڈن نے انھیں کرکٹر آف دی ایئر قرار دیا، جو کسی پاکستانی بیٹسمین کے لیے بڑا اعزاز تھا۔ 1999ء میں انھوں نے اپنی زندگی کی کہانی خود نوشت Playing for Pakistan میں بیان کی، جو پاکستان کرکٹ کے ابتدائی دور کی ایک اہم دستاویز ہے۔

نظریات اور کام کی اہمیت

حنیف محمد کرکٹ کو ایک شریفانہ اور نظم و ضبط والا کھیل سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک بیٹسمین کی اصل آزمائش یہ ہے کہ وہ مشکل حالات میں وکٹ پر کھڑا رہے، چاہے رنز کی رفتار کتنی ہی سست ہو۔ ان کی اننگزوں نے ثابت کیا کہ پاکستان کے کھلاڑی کسی بھی میدان پر دنیا کے بہترین باؤلرز کا سامنا کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کرکٹ کو ایک خاندانی روایت بھی بنایا جو بھائیوں سے بیٹے تک منتقل ہوئی اور پاکستان میں کھیل کی ثقافت کو جڑ پکڑنے میں مدد دی۔

میراث اور اثرات

حنیف محمد کا لقب لٹل ماسٹر بعد میں سنیل گواسکر اور سچن ٹنڈولکر جیسے عظیم بیٹسمینوں کو بھی دیا گیا، مگر اس لقب کے پہلے حقدار وہی تھے۔ 2009ء میں بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے انھیں آئی سی سی کرکٹ ہال آف فیم میں شامل کیا اور حکومتِ پاکستان نے انھیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی عطا کیا۔ جاوید میانداد، انضمام الحق، محمد یوسف اور یونس خان جیسے بعد کے بیٹسمینوں تک پہنچنے والا راستہ حنیف محمد ہی نے ہموار کیا، اور وسیم اکرم کے دور کی فاتح ٹیم جس بنیاد پر کھڑی تھی، اس کی پہلی اینٹ 1950ء کی دہائی میں حنیف اور فضل محمود جیسے کھلاڑیوں نے رکھی تھی۔

زندگی کی اہم تاریخیں

  1. 21 دسمبر 1934ء
    ریاست جوناگڈھ (موجودہ گجرات، بھارت) میں پیدائش
    ماخذ: ESPNcricinfo
  2. 1947ء
    تقسیم کے بعد خاندان کی کراچی ہجرت
    ماخذ: Wisden
  3. 1952ء
    دہلی میں بھارت کے خلاف پاکستان کے پہلے ٹیسٹ میچ میں سترہ برس کی عمر میں ڈیبیو
    ماخذ: ESPNcricinfo
  4. 1958ء
    برج ٹاؤن میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 970 منٹ میں 337 رنز؛ پاکستان کی پہلی ٹرپل سنچری
    ماخذ: ESPNcricinfo
  5. 1959ء
    کراچی میں بہاولپور کے خلاف 499 رنز، فرسٹ کلاس کرکٹ کا عالمی ریکارڈ
    ماخذ: ESPNcricinfo
  6. 1964ء
    پاکستان کی کپتانی کا آغاز
    ماخذ: Wisden
  7. 1968ء
    وزڈن کرکٹر آف دی ایئر قرار پائے
    ماخذ: Wisden
  8. 2009ء
    آئی سی سی کرکٹ ہال آف فیم میں شمولیت
    ماخذ: ICC
  9. 11 اگست 2016ء
    کراچی میں انتقال
    ماخذ: ESPNcricinfo

اکثر پوچھے گئے سوالات

حنیف محمد کب اور کہاں پیدا ہوئے؟

حنیف محمد 21 دسمبر 1934ء کو برطانوی ہند کی ریاست جوناگڈھ (موجودہ گجرات، بھارت) میں پیدا ہوئے اور 1947ء میں تقسیم کے بعد ان کا خاندان کراچی منتقل ہو گیا۔

حنیف محمد کو لٹل ماسٹر کیوں کہا جاتا ہے؟

چھوٹے قد کے باوجود ان کی غیر معمولی تکنیک، صبر اور دفاعی مہارت کی وجہ سے انھیں لٹل ماسٹر کہا گیا؛ یہ لقب بعد میں سنیل گواسکر اور سچن ٹنڈولکر کو بھی دیا گیا، مگر اس کے پہلے حقدار حنیف محمد ہی تھے۔

حنیف محمد کی 337 رنز کی اننگز کیوں مشہور ہے؟

جنوری 1958ء میں برج ٹاؤن میں ویسٹ انڈیز کے خلاف فالو آن کے بعد انھوں نے 970 منٹ، یعنی سولہ گھنٹے سے زائد بیٹنگ کر کے 337 رنز بنائے اور میچ ڈرا کرا دیا؛ وقت کے لحاظ سے یہ فرسٹ کلاس کرکٹ کی طویل ترین اننگز ہے۔

حنیف محمد کے 499 رنز کا ریکارڈ کب ٹوٹا؟

جنوری 1959ء میں کراچی کی طرف سے بہاولپور کے خلاف بنائے گئے 499 رنز فرسٹ کلاس کرکٹ کی سب سے بڑی اننگز کا عالمی ریکارڈ تھے، جو 1994ء میں برائن لارا کے 501 ناٹ آؤٹ تک قائم رہا۔

حنیف محمد کا انتقال کب ہوا؟

حنیف محمد 11 اگست 2016ء کو کراچی میں انتقال کر گئے۔

حنیف محمد پر منتخب کتابیں

اگر آپ اس شخصیت کو مزید سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ کتابیں ایک اچھا آغاز ہیں۔ ہر کتاب کے ساتھ ہماری ایماندار وجہ درج ہے۔

Amazon ایسوسی ایٹ کے طور پر UrduBiography.com اہل خریداریوں سے کمیشن حاصل کر سکتا ہے۔ تفصیل

ذرائع اور حوالہ جات

  1. ESPNcricinfo — Hanif Mohammad player profile www.espncricinfo.com
  2. Wisden obituary — Hanif Mohammad (ESPNcricinfo) www.espncricinfo.com
  3. ICC Cricket Hall of Fame — Hanif Mohammad www.icc-cricket.com
  4. Wikipedia — Hanif Mohammad (ابتدائی حوالہ) en.wikipedia.org

مزید حوالے: en.wikipedia.org

ہم ماخذ پر مبنی اصل اردو مواد شائع کرتے ہیں۔ غلطی نظر آئے تو اصلاح کی درخواست کریں۔

UrduBiography Editorial Team

یہ سوانح مستند ذرائع کی بنیاد پر اصل اردو میں تیار کی گئی ہے۔ حقائق کی تصدیق کی حالت ٹائم لائن میں درج ہے۔ کوئی غلطی نظر آئے تو ہمیں بتائیں — تصدیق کے بعد اصلاح نوٹ کے ساتھ تبدیلی کی جاتی ہے۔