فیض احمد فیض
پاکستان کے ممتاز ترقی پسند اردو شاعر، صحافی اور لینن امن انعام یافتہ ادیب، جنھوں نے کلاسیکی غزل کے لہجے کو انقلابی اور انسانی شعور سے جوڑا۔
فوری حقائق
- پیدائش
- 13 فروری 1911ء
- جائے پیدائش
- کالا قادر (اب فیض نگر)، سیالکوٹ کے قریب، پنجاب
- وفات
- 20 نومبر 1984ء
- جائے وفات
- لاہور
- پیشہ
- شاعر، صحافی، استاد
- قومیت
- پاکستانی
- تعلیم
- مرے کالج سیالکوٹ؛ گورنمنٹ کالج لاہور (ایم اے انگریزی)؛ اورینٹل کالج لاہور (ایم اے عربی)
- ادبی تحریک
- ترقی پسند مصنفین کی تحریک
- صحافت
- پاکستان ٹائمز، امروز اور لیل و نہار کے مدیر
- شریکِ حیات
- ایلس فیض (ایلس جارج)
- بڑا اعزاز
- لینن امن انعام (1962ء)
- جلاوطنی
- بیروت (1978ء–1982ء)، جریدہ لوٹس کی ادارت
- مدفن
- ماڈل ٹاؤن، لاہور
- اہم تصانیف / کام
- نقشِ فریادی (1941ء)، دستِ صبا (1952ء)، زنداں نامہ (1956ء)، دستِ تہِ سنگ (1965ء)
- اعزازات
- لینن امن انعام، 1962ء، نشانِ امتیاز (بعد از وفات)، 1990ء، ایم بی ای (MBE)، برطانوی فوج میں خدمات کے اعتراف میں، 1945ء
تعارف
فیض احمد فیض بیسویں صدی کی اردو شاعری کے سب سے بڑے ناموں میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے کلاسیکی غزل کے لب و لہجے کو جدید سیاسی اور انسانی شعور کے ساتھ اس طرح جوڑا کہ محبوب اور وطن، ہجر اور قید، وصال اور آزادی ایک ہی علامتی نظام کا حصہ بن گئے۔ وہ ترقی پسند تحریک کے نمایاں شاعر، صحافی، استاد، ٹریڈ یونین کارکن اور ایک ایسے عالمی شہری تھے جنھیں لینن امن انعام سے نوازا گیا۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
فیض 13 فروری 1911ء کو سیالکوٹ کے قریب کالا قادر نامی گاؤں میں پیدا ہوئے، جو اب نارووال کے ضلعے میں ہے اور ان کے نام پر فیض نگر کہلاتا ہے۔ ان کے والد سلطان محمد خان ایک غیر معمولی شخصیت تھے؛ معمولی گھرانے سے اٹھ کر انھوں نے افغانستان کے امیر عبدالرحمان خان کے دربار میں خدمات انجام دیں، پھر قانون کی تعلیم حاصل کر کے بیرسٹر بنے اور سیالکوٹ میں وکالت کی۔ گھر کا ماحول علمی تھا اور فیض کو بچپن ہی سے کلاسیکی اردو اور فارسی شاعری کا ذوق ملا۔
تعلیم
فیض نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ کے سکاچ مشن اسکول سے حاصل کی اور پھر مرے کالج سیالکوٹ میں داخل ہوئے، جہاں انھیں اقبال کے استاد شمس العلماء سید میر حسن سے عربی پڑھنے کا موقع ملا۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ لاہور آئے اور گورنمنٹ کالج سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا؛ یہاں احمد شاہ بخاری پطرس جیسے استاد ان کے ذوق کی تربیت میں شریک رہے۔ اس کے بعد انھوں نے اورینٹل کالج لاہور سے عربی میں بھی ایم اے کی سند لی۔
عملی زندگی
1935ء میں فیض ایم اے او کالج امرتسر میں انگریزی کے لیکچرار مقرر ہوئے۔ یہاں صاحبزادہ محمود الظفر اور رشید جہاں کی رفاقت میں وہ مارکسی فکر اور ترقی پسند مصنفین کی تحریک سے وابستہ ہوئے۔ 1940ء میں وہ لاہور کے ہیلی کالج آف کامرس میں آ گئے۔ 1941ء میں ان کا پہلا مجموعہ نقشِ فریادی شائع ہوا اور اسی برس انھوں نے برطانوی نژاد ایلس جارج (ایلس فیض) سے شادی کی۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران فیض 1942ء میں برطانوی ہندوستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ میں شامل ہوئے اور لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے تک پہنچے۔
1947ء میں فیض فوج چھوڑ کر صحافت میں آئے اور لاہور کے انگریزی روزنامے «پاکستان ٹائمز» کے مدیر بنے؛ اردو روزنامہ «امروز» اور ہفت روزہ «لیل و نہار» بھی اسی ادارے سے ان کی نگرانی میں نکلے۔ وہ پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کے سرگرم عہدے دار بھی رہے۔ 1951ء میں انھیں راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار کیا گیا اور وہ 1955ء تک سرگودھا، حیدرآباد اور منٹگمری سمیت کئی جیلوں میں رہے۔ قید کے یہی برس شاعری کے لیے سب سے زرخیز ثابت ہوئے، جن کا حاصل دستِ صبا اور زنداں نامہ ہیں۔ 1958ء کے مارشل لا کے بعد وہ دوبارہ کچھ عرصہ قید رہے۔ بعد کے برسوں میں وہ لاہور آرٹس کونسل سے وابستہ رہے اور 1970ء کی دہائی میں حکومتِ پاکستان کے مشیرِ ثقافت رہے۔ 1978ء میں وہ بیروت چلے گئے جہاں افریقی ایشیائی ادیبوں کے جریدے «لوٹس» کی ادارت کی۔ 1982ء میں وطن واپس آئے اور 20 نومبر 1984ء کو لاہور میں وفات پائی۔
اہم کارنامے
- اردو غزل اور نظم میں رومانی اور انقلابی جذبے کو ایک ہی لہجے میں سمو کر ترقی پسند شاعری کا سب سے بلند معیار قائم کیا۔
- 1962ء میں لینن امن انعام حاصل کیا، جو ایک پاکستانی شاعر کے لیے غیر معمولی عالمی اعزاز تھا۔
- پاکستان ٹائمز کی ادارت کے ذریعے پاکستان کی ابتدائی صحافت کو ایک آزاد اور ترقی پسند آواز دی۔
- افریقی ایشیائی ادیبوں کی تنظیم اور «لوٹس» کی ادارت کے ذریعے تیسری دنیا کے ادب کو بین الاقوامی سطح پر جوڑا۔
- حکومتِ پاکستان نے 1990ء میں انھیں بعد از وفات نشانِ امتیاز عطا کیا۔
اہم تصانیف
فیض کے شعری مجموعے ترتیب سے یہ ہیں: نقشِ فریادی (1941ء)، دستِ صبا (1952ء)، زنداں نامہ (1956ء)، دستِ تہِ سنگ (1965ء)، سرِ وادیِ سینا (1971ء)، شامِ شہرِ یاراں (1978ء) اور مرے دل مرے مسافر (1981ء)۔ ان سب کا کلیات نسخہ ہائے وفا کے نام سے شائع ہوا، جو آج فیض کو پڑھنے کی بنیادی کتاب ہے؛ آخری دور کا کلام غبارِ ایام میں جمع ہوا۔ نثر میں میزان (تنقیدی مضامین)، صلیبیں مرے دریچے میں (قید کے دوران ایلس کے نام خطوط) اور مہ و سالِ آشنائی (یادیں اور سفرنامہ) اہم ہیں۔
نظریات اور کام کی اہمیت
فیض کی شاعری کا بنیادی تصور یہ ہے کہ ذاتی محبت اور اجتماعی دکھ ایک دوسرے سے الگ نہیں۔ نظم «مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ» میں انھوں نے کھلے لفظوں میں کہا کہ محبوب کا حسن اپنی جگہ، مگر دنیا کے دکھ بھی توجہ مانگتے ہیں؛ یہ نظم ترقی پسند شاعری کا منشور بن گئی۔ انھوں نے غالب اور کلاسیکی غزل کی علامتوں، مثلاً ہجر، قفس، صبا، دار و رسن اور صبح کو برقرار رکھا مگر انھیں نئے سیاسی معنی دیے؛ یوں ان کی شاعری انقلابی ہونے کے باوجود نعرہ نہیں بنتی۔ اقبال کی فکری نظم کے بعد فیض نے اردو نظم کو ایک نئی سمت دی جہاں فکر کی جگہ احساس اور تجربے نے لی۔
میراث اور اثرات
فیض کا کلام برصغیر کی موسیقی اور عوامی زندگی میں گہرائی سے پیوست ہے۔ نور جہاں کی گائی ہوئی «مجھ سے پہلی سی محبت» اور اقبال بانو کی آواز میں «ہم دیکھیں گے» صرف گانے نہیں بلکہ تاریخی لمحے بن گئے، اور «ہم دیکھیں گے» آج بھی جنوبی ایشیا میں احتجاجی تحریکوں میں پڑھی جاتی ہے۔ انگریزی میں وکٹر کیرنن اور آغا شاہد علی کے تراجم خاص طور پر معروف ہیں۔ لاہور میں فیض گھر اور فیض فاؤنڈیشن ان کی یاد اور کام کو زندہ رکھنے کے ادارے ہیں، اور ہر برس منعقد ہونے والا فیض فیسٹیول نئی نسل کو ان سے ملاتا ہے۔ مزاحمت، محبت اور وقار کو ایک لہجے میں باندھنے کا جو ہنر فیض نے پایا، وہ آج بھی اردو شاعری کا معیار ہے۔
زندگی کی اہم تاریخیں
-
13 فروری 1911ءسیالکوٹ کے قریب کالا قادر (اب فیض نگر، ضلع نارووال) میں پیدائشماخذ: Britannica
-
1935ءایم اے او کالج امرتسر میں انگریزی کے لیکچرار؛ ترقی پسند تحریک سے وابستگیماخذ: Rekhta
-
1941ءپہلا مجموعہ نقشِ فریادی شائع ہوا؛ ایلس جارج سے شادیماخذ: Britannica
-
1942ءبرطانوی ہندوستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ میں شمولیتماخذ: Britannica
-
1947ءلاہور کے انگریزی روزنامے پاکستان ٹائمز کے مدیر مقررماخذ: Britannica
-
1951ءراولپنڈی سازش کیس میں گرفتاری؛ 1955ء تک قیدماخذ: Britannica
-
1962ءلینن امن انعامماخذ: Britannica
-
1978ءبیروت منتقلی؛ افریقی ایشیائی ادیبوں کے جریدے لوٹس کی ادارتماخذ: Poetry Foundation
-
20 نومبر 1984ءلاہور میں وفاتماخذ: Britannica
مشہور اقوال و اشعار
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول زباں اب تک تیری ہے
اکثر پوچھے گئے سوالات
فیض احمد فیض کب اور کہاں پیدا ہوئے؟
فیض 13 فروری 1911ء کو سیالکوٹ کے قریب کالا قادر نامی گاؤں میں پیدا ہوئے، جو اب ضلع نارووال میں ہے اور فیض نگر کہلاتا ہے۔
فیض کی مشہور کتابیں کون سی ہیں؟
نقشِ فریادی، دستِ صبا، زنداں نامہ، دستِ تہِ سنگ، سرِ وادیِ سینا، شامِ شہرِ یاراں اور مرے دل مرے مسافر؛ ان سب کا کلیات نسخہ ہائے وفا کے نام سے شائع ہوا۔
فیض کو کون سے بڑے اعزازات ملے؟
1962ء میں لینن امن انعام اور 1990ء میں حکومتِ پاکستان کی طرف سے بعد از وفات نشانِ امتیاز۔
فیض کو قید کیوں ہوئی؟
1951ء میں انھیں راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار کیا گیا اور وہ 1955ء تک قید رہے؛ دستِ صبا اور زنداں نامہ کا بڑا حصہ اسی قید میں لکھا گیا۔
فیض احمد فیض کا انتقال کب ہوا؟
فیض کا انتقال 20 نومبر 1984ء کو لاہور میں ہوا۔
فیض احمد فیض پر منتخب کتابیں
اگر آپ اس شخصیت کو مزید سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ کتابیں ایک اچھا آغاز ہیں۔ ہر کتاب کے ساتھ ہماری ایماندار وجہ درج ہے۔
نسخہ ہائے وفا
فیض کے تمام شعری مجموعوں کا کلیات؛ ان کی شاعری کو مکمل اور ترتیب سے پڑھنے کی بنیادی کتاب۔
Amazon پر کتاب دیکھیںنقشِ فریادی
فیض کا پہلا مجموعہ، جس میں «مجھ سے پہلی سی محبت» اور «بول» جیسی نظمیں ان کے لہجے کی تشکیل دکھاتی ہیں۔
Amazon پر کتاب دیکھیںدستِ صبا
قید کے برسوں کی شاعری، جہاں فیض کا سیاسی شعور اور غزل کا کلاسیکی لہجہ اپنی بہترین صورت میں ملتے ہیں۔
Amazon پر کتاب دیکھیںThe Rebel's Silhouette: Selected Poems
انگریزی قاری کے لیے فیض کی منتخب نظموں کا معروف ترجمہ، جو خود ایک بڑے شاعر کے قلم سے ہے۔
Amazon پر کتاب دیکھیںAmazon ایسوسی ایٹ کے طور پر UrduBiography.com اہل خریداریوں سے کمیشن حاصل کر سکتا ہے۔ تفصیل
ذرائع اور حوالہ جات
- Encyclopaedia Britannica — Faiz Ahmad Faiz www.britannica.com
- Rekhta — Faiz Ahmad Faiz (poet profile) www.rekhta.org
- Poetry Foundation — Faiz Ahmed Faiz www.poetryfoundation.org
- Wikipedia — Faiz Ahmad Faiz (ابتدائی حوالہ) en.wikipedia.org
مزید حوالے: en.wikipedia.org
ہم ماخذ پر مبنی اصل اردو مواد شائع کرتے ہیں۔ غلطی نظر آئے تو اصلاح کی درخواست کریں۔
یہ سوانح مستند ذرائع کی بنیاد پر اصل اردو میں تیار کی گئی ہے۔ حقائق کی تصدیق کی حالت ٹائم لائن میں درج ہے۔ کوئی غلطی نظر آئے تو ہمیں بتائیں — تصدیق کے بعد اصلاح نوٹ کے ساتھ تبدیلی کی جاتی ہے۔