مرزا اسد اللہ خان غالب — شاعر، نثر نگار (خطوط نویس)
تصویر: Unknown authorUnknown author — Wikimedia Commons (Public domain)
شعراء و ادباء

مرزا اسد اللہ خان غالب

Mirza Asadullah Khan Ghalib
شاعر، نثر نگار (خطوط نویس)
پیدائش: 27 دسمبر 1797ء، آگرہ وفات: 15 فروری 1869ء، دہلی

انیسویں صدی کی دہلی کے عظیم اردو و فارسی شاعر، جن کا دیوانِ غالب اردو غزل کا بلند ترین معیار اور جن کے خطوط جدید اردو نثر کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔

Facebook X

فوری حقائق

پیدائش
27 دسمبر 1797ء
جائے پیدائش
آگرہ
وفات
15 فروری 1869ء
جائے وفات
دہلی
پیشہ
شاعر، نثر نگار (خطوط نویس)
قومیت
مغلیہ ہندوستان؍ برطانوی ہند
اصل نام
مرزا اسد اللہ بیگ خان
تخلص
غالب (ابتدا میں اسد)
زبانیں
اردو اور فارسی
شاہی خطابات
نجم الدولہ، دبیر الملک
مشہور شاگرد
مولانا الطاف حسین حالی
رہائش
بلی ماران، گلی قاسم جان، دہلی (غالب کی حویلی)
مدفن
حضرت نظام الدین اولیا کی درگاہ کے قریب، دہلی
اہم تصانیف / کام
دیوانِ غالب (اردو؛ پہلی اشاعت 1841ء)، کلیاتِ غالب (فارسی)، مہرِ نیم روز (فارسی تاریخ، 1854ء)، دستنبو (1857ء کا فارسی روزنامچہ)
اعزازات
نجم الدولہ، دبیر الملک کے خطابات (بہادر شاہ ظفر کی طرف سے)، 1850ء

تعارف

مرزا اسد اللہ خان غالب اردو کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور سب سے زیادہ بحث میں آنے والے شاعر ہیں۔ انیسویں صدی کی دہلی، جہاں مغل سلطنت اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی اور برطانوی اقتدار قدم جما رہا تھا، غالب نے اس زوال کے بیچ ایسی شاعری کی جو فکر، شوخی، درد اور طنز کو ایک ساتھ سمیٹ لیتی ہے۔ وہ فارسی کے بھی قادرالکلام شاعر تھے اور خود اپنی فارسی شاعری کو اردو پر فوقیت دیتے تھے۔

ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر

غالب 27 دسمبر 1797ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام مرزا اسد اللہ بیگ خان تھا اور ان کے بزرگ ترک النسل تھے جو وسطی ایشیا سے ہندوستان آ کر فوجی ملازمت سے وابستہ رہے۔ والد مرزا عبداللہ بیگ خان ایک فوجی تھے جو غالب کے بچپن ہی میں ایک لڑائی میں مارے گئے۔ پرورش چچا مرزا نصر اللہ بیگ خان کے سائے میں ہوئی، مگر وہ بھی چند برس بعد وفات پا گئے۔ تیرہ برس کی عمر میں، 1810ء میں، ان کی شادی نواب الٰہی بخش خان معروف کی بیٹی امراؤ بیگم سے ہوئی اور اس کے بعد وہ مستقل طور پر دہلی منتقل ہو گئے۔ ان کے بچے بچپن ہی میں وفات پا گئے، اور یہ غم ان کی شاعری اور خطوط دونوں میں جھلکتا ہے۔

تعلیم

غالب کی تعلیم روایتی طریقے پر گھر اور آگرہ کے اہلِ علم کے پاس ہوئی۔ انھوں نے فارسی اور عربی کی تعلیم پائی اور فارسی ادب میں غیر معمولی مہارت حاصل کی۔ ان کے اپنے بیان کے مطابق آگرہ میں ایک ایرانی عالم عبدالصمد سے انھوں نے فارسی کی باریکیاں سیکھیں، اگرچہ بعض محققین اس بیان کو احتیاط سے دیکھتے ہیں۔ کسی استادِ شعر سے اصلاح لینے کی روایت ان کے بارے میں نہیں ملتی؛ وہ بڑی حد تک خود آموز تھے، اور شاعری کا آغاز کم عمری میں پہلے «اسد» اور پھر «غالب» تخلص سے کیا۔

عملی زندگی

غالب کی عملی زندگی کا بڑا حصہ معاشی تنگی اور وقار کے درمیان کشمکش میں گزرا۔ چچا کی وفات کے بعد برطانوی حکومت سے ملنے والی خاندانی پنشن کی تقسیم کو وہ ناانصافی سمجھتے تھے، اور اسی مقدمے کی پیروی کے لیے وہ 1826ء کے لگ بھگ کلکتہ کے سفر پر نکلے، جہاں وہ تقریباً دو برس رہے۔ یہ سفر مقدمے کے لحاظ سے ناکام رہا مگر کلکتہ کے جدید شہری منظر اور نئے خیالات نے ان کی سوچ کو وسعت دی۔

1841ء میں ان کا اردو دیوان پہلی بار دہلی سے چھپا۔ 1850ء میں آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے انھیں «نجم الدولہ، دبیر الملک» کے خطابات دیے اور تیموری خاندان کی تاریخ لکھنے پر مامور کیا، جس کا ایک حصہ «مہرِ نیم روز» کے نام سے شائع ہوا۔ 1854ء میں شیخ ابراہیم ذوق کی وفات کے بعد غالب بادشاہ کے استادِ شعر مقرر ہوئے۔ 1857ء کی بغاوت اور اس کے بعد دہلی کی تباہی کو غالب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور فارسی روزنامچے «دستنبو» میں قلم بند کیا۔ غدر کے بعد دربار ختم ہو گیا؛ ایسے میں ریاست رام پور کے نواب یوسف علی خان کی سرپرستی نے ان کے آخری برسوں کو کچھ سہارا دیا۔ غالب 15 فروری 1869ء کو دہلی میں وفات پا گئے اور حضرت نظام الدین اولیا کی درگاہ کے قریب دفن ہوئے۔

اہم کارنامے

  • اردو غزل کو فکری گہرائی، فلسفیانہ سوال اور شخصی لہجہ دیا، جس سے غزل محض عشقیہ صنف نہ رہی۔
  • اردو خطوط نگاری کو بے تکلف، بول چال کے قریب نثر سے روشناس کیا اور جدید اردو نثر کی بنیاد رکھی۔
  • فارسی شاعری اور نثر میں ایسا سرمایہ چھوڑا جو برصغیر کے فارسی ادب کے آخری بڑے نمونوں میں شمار ہوتا ہے۔
  • الطاف حسین حالی سمیت کئی شاگردوں کی تربیت کی، جنھوں نے بعد میں اردو ادب کی سمت متعین کی۔

اہم تصانیف

غالب کی سب سے مشہور کتاب دیوانِ غالب (اردو) ہے، جو حجم میں مختصر مگر اثر میں بے مثال ہے۔ ان کا فارسی کلام کلیاتِ غالب فارسی میں جمع ہے۔ نثر میں مہرِ نیم روز (تیموری خاندان کی تاریخ کا پہلا حصہ)، دستنبو (1857ء کا فارسی روزنامچہ) اور قاطعِ برہان (فارسی لغت «برہانِ قاطع» پر تنقید) اہم ہیں۔ ان کے اردو خطوط ان کی زندگی ہی میں عودِ ہندی اور وفات کے سال اردوئے معلیٰ کے نام سے مرتب ہو کر شائع ہوئے، اور آج «خطوطِ غالب» اردو نثر کے کلاسیکی نمونوں میں شمار ہوتے ہیں۔

نظریات اور کام کی اہمیت

غالب کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی اس کا سوال اٹھانے والا ذہن ہے۔ وہ روایتی مذہبیت، زاہدانہ تکبر اور دنیاوی اقتدار سب کو ایک شوخ اور نکتہ رس نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کے یہاں عشق، وجود، موت اور خدا کے بارے میں ایسے سوال ملتے ہیں جو ایک جدید ذہن کے سوال محسوس ہوتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ہر نسل انھیں اپنا ہم عصر پاتی ہے۔ خطوط میں انھوں نے مرصع نثر چھوڑ کر ایسی زبان لکھی جیسے آمنے سامنے بات کر رہے ہوں؛ سر سید احمد خان اور حالی کی سادہ، مقصدی نثر کا راستہ غالب کے خطوط نے پہلے ہی ہموار کر دیا تھا۔

میراث اور اثرات

غالب کے بعد اردو میں شاید کسی شاعر پر اتنا نہیں لکھا گیا جتنا خود غالب پر۔ ان کے شاگرد الطاف حسین حالی نے 1897ء میں یادگارِ غالب لکھ کر اردو میں ادبی سوانح نگاری کی بنیاد رکھی۔ علامہ اقبال نے بانگِ درا میں ان کے نام سے نظم لکھ کر انھیں خراجِ تحسین پیش کیا، اور فیض احمد فیض سمیت بیسویں صدی کے بڑے شاعروں نے ان سے سیکھنے کا اعتراف کیا۔ دہلی کے بلی ماران میں ان کی حویلی اب ایک یادگار ہے، اور ہندوستان و پاکستان دونوں میں ان کے نام سے ادارے، سڑکیں اور تقریبات موجود ہیں۔ غالب کا کلام اردو کے اجتماعی شعور کا ایسا حصہ بن چکا ہے کہ ان کے مصرعے عام گفتگو میں بے ساختہ آ جاتے ہیں۔

زندگی کی اہم تاریخیں

  1. 27 دسمبر 1797ء
    آگرہ میں پیدائش
    ماخذ: Britannica
  2. 1810ء
    امراؤ بیگم سے شادی؛ دہلی میں مستقل سکونت
    ماخذ: Britannica
  3. 1826ء
    پنشن کے مقدمے کی پیروی کے لیے کلکتہ کے طویل سفر پر روانگی
    تخمینی ماخذ: Rekhta
  4. 1841ء
    اردو دیوان کی پہلی اشاعت (دہلی)
    ماخذ: Columbia University (Pritchett)
  5. 1850ء
    بہادر شاہ ظفر سے نجم الدولہ، دبیر الملک کے خطابات؛ تیموری خاندان کی تاریخ لکھنے پر تقرر
    ماخذ: Britannica
  6. 1854ء
    ذوق کی وفات کے بعد بادشاہ کے استادِ شعر مقرر
    ماخذ: Britannica
  7. 1857ء
    غدر کے مناظر دیکھے؛ فارسی روزنامچہ دستنبو لکھا
    ماخذ: Britannica
  8. 1859ء
    ریاست رام پور کے نواب یوسف علی خان کی طرف سے وظیفہ مقرر
    تخمینی ماخذ: Rekhta
  9. 15 فروری 1869ء
    دہلی میں وفات؛ نظام الدین میں تدفین
    ماخذ: Britannica

مشہور اقوال و اشعار

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
مرزا اسد اللہ خان غالب ماخذ: دیوانِ غالب
ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور
مرزا اسد اللہ خان غالب ماخذ: دیوانِ غالب

اکثر پوچھے گئے سوالات

مرزا غالب کب اور کہاں پیدا ہوئے؟

مرزا غالب 27 دسمبر 1797ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔

غالب کا اصل نام کیا تھا؟

ان کا اصل نام مرزا اسد اللہ بیگ خان تھا؛ ابتدا میں ان کا تخلص اسد تھا جو بعد میں غالب ہو گیا۔

غالب کی مشہور کتابیں کون سی ہیں؟

دیوانِ غالب (اردو)، کلیاتِ غالب فارسی، خطوط کے مجموعے عودِ ہندی اور اردوئے معلیٰ، نیز فارسی نثر میں دستنبو اور مہرِ نیم روز۔

غالب کیوں مشہور ہیں؟

اردو غزل کو فکری گہرائی اور شخصی لہجہ دینے، اور اپنے بے تکلف خطوط کے ذریعے جدید اردو نثر کی بنیاد رکھنے کی وجہ سے۔

غالب کا انتقال کب ہوا اور وہ کہاں دفن ہیں؟

غالب 15 فروری 1869ء کو دہلی میں وفات پا گئے اور حضرت نظام الدین اولیا کی درگاہ کے قریب دفن ہوئے۔

مرزا اسد اللہ خان غالب پر منتخب کتابیں

اگر آپ اس شخصیت کو مزید سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ کتابیں ایک اچھا آغاز ہیں۔ ہر کتاب کے ساتھ ہماری ایماندار وجہ درج ہے۔

Amazon ایسوسی ایٹ کے طور پر UrduBiography.com اہل خریداریوں سے کمیشن حاصل کر سکتا ہے۔ تفصیل

ذرائع اور حوالہ جات

  1. Encyclopaedia Britannica — Mirza Ghalib www.britannica.com
  2. Rekhta — Mirza Ghalib (poet profile) www.rekhta.org
  3. Frances W. Pritchett (Columbia University) — A Desertful of Roses: the Urdu ghazals of Ghalib www.columbia.edu
  4. Wikipedia — Ghalib (ابتدائی حوالہ) en.wikipedia.org

مزید حوالے: en.wikipedia.org

ہم ماخذ پر مبنی اصل اردو مواد شائع کرتے ہیں۔ غلطی نظر آئے تو اصلاح کی درخواست کریں۔

UrduBiography Editorial Team

یہ سوانح مستند ذرائع کی بنیاد پر اصل اردو میں تیار کی گئی ہے۔ حقائق کی تصدیق کی حالت ٹائم لائن میں درج ہے۔ کوئی غلطی نظر آئے تو ہمیں بتائیں — تصدیق کے بعد اصلاح نوٹ کے ساتھ تبدیلی کی جاتی ہے۔