مولانا جلال الدین رومی — صوفی شاعر، فقیہ، مفکر
تصویر: Hossein Behzad — Wikimedia Commons (Public domain)
اسلامی شخصیات

مولانا جلال الدین رومی

Maulana Jalal al-Din Rumi
صوفی شاعر، فقیہ، مفکر
پیدائش: تقریباً 1207ء (روایتی تاریخ: 30 ستمبر 1207ء)، بلخ کا علاقہ (موجودہ افغانستان؛ بعض محققین کے نزدیک وخش، موجودہ تاجکستان) (تخمینی) وفات: 17 دسمبر 1273ء، قونیہ (موجودہ ترکی)

مولانا جلال الدین رومی (1207ء–1273ء) فارسی کے عظیم صوفی شاعر ہیں جن کی مثنوی معنوی اور دیوانِ شمس تبریزی نے اسلامی تصوف اور عالمی ادب پر گہرا اثر ڈالا؛ اقبال انھیں اپنا مرشد کہتے تھے۔

Facebook X

فوری حقائق

پیدائش
تقریباً 1207ء (روایتی تاریخ: 30 ستمبر 1207ء) (تخمینی)
جائے پیدائش
بلخ کا علاقہ (موجودہ افغانستان؛ بعض محققین کے نزدیک وخش، موجودہ تاجکستان)
وفات
17 دسمبر 1273ء
جائے وفات
قونیہ (موجودہ ترکی)
پیشہ
صوفی شاعر، فقیہ، مفکر
قومیت
خراسانی؛ سلجوقیانِ روم (قونیہ)
پورا نام
محمد جلال الدین بن بہاء الدین ولد
والد
بہاء الدین ولد، خراسان کے معروف واعظ (سلطان العلماء)
روحانی ساتھی
شمس تبریزی؛ بعد میں صلاح الدین زرکوب اور حسام الدین چلبی
زبان
فارسی (کچھ اشعار عربی اور ترکی میں بھی)
سلسلہ
مولویہ، جسے ان کے بیٹے سلطان ولد نے منظم کیا
مزار
قونیہ، ترکی (مولانا میوزیم)
اردو فکر پر اثر
علامہ اقبال نے انھیں اپنا مرشد قرار دیا
اہم تصانیف / کام
مثنوی معنوی (چھ دفاتر)، دیوانِ شمس تبریزی / دیوانِ کبیر، فیہ ما فیہ (نثر)، مجالسِ سبعہ

تعارف

مولانا جلال الدین محمد بلخی، جنہیں برصغیر میں مولانا روم اور مغرب میں Rumi کہا جاتا ہے، فارسی زبان کے عظیم ترین صوفی شاعر اور اسلامی تصوف کی سب سے بااثر شخصیات میں سے ہیں۔ وہ تقریباً 1207ء میں بلخ کے علاقے میں پیدا ہوئے اور 17 دسمبر 1273ء کو قونیہ (موجودہ ترکی) میں وفات پائی۔ ان کی مثنوی معنوی کو فارسی روایت میں قرآن در زبانِ پہلوی کا خطاب دیا گیا، اور ان کی غزلیں آج دنیا کی درجنوں زبانوں میں پڑھی جاتی ہیں۔

ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر

رومی کے والد بہاء الدین ولد خراسان کے معروف واعظ اور عالم تھے جنہیں ان کے پیروکار سلطان العلماء کہتے تھے؛ ان کی تعلیمات کا مجموعہ معارف کے نام سے محفوظ ہے۔ روایتی طور پر رومی کی جائے پیدائش بلخ بتائی جاتی ہے، تاہم بعض جدید محققین کے نزدیک خاندان بلخ کے علاقے کی چھوٹی بستی وخش (موجودہ تاجکستان) میں مقیم تھا۔ منگول یلغار سے کچھ پہلے (تقریباً 1215ء–1220ء) بہاء الدین ولد خاندان کے ساتھ خراسان سے نکل گئے۔ یہ قافلہ بغداد، حجاز اور شام سے ہوتا ہوا اناطولیہ پہنچا جو سلجوقیانِ روم کی حکومت میں تھا؛ رومی کی نسبت اسی علاقے سے ہے۔ لارندہ (موجودہ قرمان) میں رومی کی شادی گوہر خاتون سے ہوئی اور یہیں ان کے بیٹے سلطان ولد پیدا ہوئے، جو بعد میں سلسلۂ مولویہ کے منتظم بنے۔

تعلیم

رومی کی ابتدائی تعلیم والد کی نگرانی میں ہوئی۔ تقریباً 1228ء میں سلجوقی سلطان علاء الدین کیقباد کی دعوت پر خاندان قونیہ منتقل ہوا جہاں بہاء الدین ولد درس دیتے رہے اور 1231ء میں وفات پائی۔ اس کے بعد والد کے مرید برہان الدین محقق ترمذی نے تقریباً نو برس تک رومی کی روحانی اور علمی تربیت کی۔ انھی کے مشورے پر رومی نے حلب اور دمشق میں اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کی۔ واپسی پر وہ قونیہ میں والد کی مسند پر بیٹھے اور ایک معزز فقیہ اور مدرس کے طور پر جانے جاتے تھے۔

عملی زندگی

رومی کی زندگی کا سب سے بڑا موڑ 1244ء میں آیا جب قونیہ میں ان کی ملاقات درویش شمس الدین تبریزی سے ہوئی۔ اس ملاقات کی کئی روایتیں ہیں مگر سب متفق ہیں کہ شمس نے رومی کی زندگی یکسر بدل دی: مدرس درویش بن گیا، سماع اختیار کیا اور شاعری کا دریا بہ نکلا۔ مریدوں کی مخالفت کے سبب شمس ایک بار دمشق چلے گئے، سلطان ولد انھیں واپس لائے، اور تقریباً 1247ء میں وہ اچانک غائب ہو گئے؛ بعض روایات کے مطابق انھیں قتل کر دیا گیا۔

شمس کے بعد رومی نے زرگر صلاح الدین زرکوب کو اپنا ہمدم بنایا۔ صلاح الدین کی وفات (1258ء) کے بعد حسام الدین چلبی ان کے قریب ترین رفیق بنے، جن کی فرمائش پر رومی نے مثنوی معنوی کا املا شروع کیا۔ یہ کام دس برس سے زائد جاری رہا اور چھٹے دفتر پر رومی کی وفات کے ساتھ نامکمل رہ گیا۔ 17 دسمبر 1273ء کو رومی قونیہ میں وفات پا گئے؛ روایات کے مطابق ان کے جنازے میں مسلمانوں کے ساتھ مسیحی اور یہودی بھی شریک ہوئے۔

اہم کارنامے

  • فارسی تصوف کی سب سے بڑی تعلیمی منظوم کتاب مثنوی معنوی کی تخلیق، جو چھ دفتروں اور تقریباً پچیس ہزار اشعار پر مشتمل ہے۔
  • فارسی غزل کو وجدانی تجربے کے اظہار کا وسیلہ بنانا؛ دیوانِ کبیر میں تین ہزار سے زائد غزلیں اور تقریباً دو ہزار رباعیاں شامل ہیں۔
  • سماع کو ایک منظم روحانی مشق کی شکل دینا جو بعد میں سلسلۂ مولویہ کی پہچان بنی۔

اہم تصانیف

  • مثنوی معنوی — چھ دفاتر؛ حکایات اور تمثیلوں کے ذریعے روحانی تعلیم۔
  • دیوانِ شمس تبریزی (دیوانِ کبیر) — غزلیات اور رباعیات کا مجموعہ۔
  • فیہ ما فیہ — رومی کی مجلسی گفتگوؤں کا نثری مجموعہ۔
  • مجالسِ سبعہ — سات وعظ۔
  • مکتوبات — خطوط کا مجموعہ۔

نظریات اور کام کی اہمیت

رومی کی فکر کا مرکز عشق ہے: ان کے نزدیک انسان اپنی اصل سے جدا ہوا ہے اور ساری زندگی اس اصل کی طرف واپسی کی تڑپ ہے؛ مثنوی کے پہلے شعر میں بانسری کی فریاد اسی جدائی کی علامت ہے۔ وہ عقل کی اہمیت کے منکر نہیں مگر اسے عشق کے مقابلے میں محدود سمجھتے ہیں۔ ان کی شاعری میں قرآن و حدیث کے حوالے، روزمرہ کی تمثیلیں اور حکایتیں ایک ساتھ موجود ہیں، اور یہی تنوع انھیں عالم اور عامی دونوں تک پہنچاتا ہے۔ رومی نے مذہبی تنگ نظری پر تنقید کی اور انسان کی باطنی حقیقت کو ظاہری شناختوں پر فوقیت دی، مگر وہ شریعت کے پابند رہے اور ان کی تعلیم اسلامی روایت کے اندر سے پھوٹتی ہے۔ برصغیر میں مثنوی صدیوں تک خانقاہوں اور مدارس کے نصاب کا حصہ رہی؛ مولانا اشرف علی تھانوی کی کلیدِ مثنوی اور قاضی سجاد حسین کا اردو ترجمہ اس روایت کی مثالیں ہیں، اور شبلی نعمانی نے سوانح مولانا روم لکھ کر اردو میں ان کی پہلی جدید علمی سوانح پیش کی۔

میراث اور اثرات

رومی کی وفات کے بعد سلطان ولد نے مریدوں کو سلسلۂ مولویہ کی شکل میں منظم کیا؛ اس کی سماع کی رسم کو یونیسکو نے انسانیت کے غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ علامہ اقبال نے اسرارِ خودی کی تمہید میں رومی کو اپنا مرشد قرار دیا اور جاوید نامہ میں انھیں افلاک کے سفر کا رہنما بنایا؛ اقبال کے عشق، خودی اور حرکت کے تصورات کا بڑا ماخذ رومی ہیں۔ بیسویں صدی میں آر اے نکلسن کے مکمل انگریزی ترجمے اور بعد کی آزاد ترجمانیوں نے رومی کو مغرب کے مقبول ترین شاعروں میں شامل کر دیا۔ 2007ء میں ان کی پیدائش کی آٹھ سو سالہ تقریبات یونیسکو کے اشتراک سے منائی گئیں۔ رومی کی اصل میراث یہ ہے کہ انھوں نے دکھایا کہ گہری دینی روایت میں جڑی ہوئی شاعری ہر مذہب اور تہذیب کے انسان سے بات کر سکتی ہے۔

زندگی کی اہم تاریخیں

  1. 1207ء
    بلخ کے علاقے میں پیدائش
    تخمینی ماخذ: Britannica
  2. 1219ء
    منگول یلغار سے پہلے خاندان کی خراسان سے ہجرت؛ بغداد، حجاز اور شام سے ہوتے ہوئے اناطولیہ کا سفر
    تخمینی ماخذ: Franklin Lewis, Rumi: Past and Present
  3. 1228ء
    سلجوقی سلطان کی دعوت پر خاندان کی قونیہ میں آباد کاری
    تخمینی ماخذ: Britannica
  4. 1231ء
    والد بہاء الدین ولد کی وفات؛ برہان الدین محقق ترمذی کی زیرِ تربیت روحانی تعلیم
    ماخذ: Britannica
  5. 1244ء
    قونیہ میں شمس تبریزی سے ملاقات؛ زندگی کا فیصلہ کن موڑ
    ماخذ: Britannica
  6. 1247ء
    شمس تبریزی کی پراسرار گمشدگی
    تخمینی ماخذ: Britannica
  7. 1258ء
    صلاح الدین زرکوب کی وفات؛ اس کے بعد حسام الدین چلبی کی تحریک پر مثنوی معنوی کا آغاز
    تخمینی ماخذ: Franklin Lewis, Rumi: Past and Present
  8. 17 دسمبر 1273ء
    قونیہ میں وفات
    ماخذ: Britannica

مشہور اقوال و اشعار

بشنو از نی چون حکایت می‌کند
از جدایی‌ها شکایت می‌کند
مولانا جلال الدین رومی ماخذ: مثنوی معنوی، دفتر اول (پہلا شعر)

اکثر پوچھے گئے سوالات

مولانا رومی کب اور کہاں پیدا ہوئے؟

مولانا رومی تقریباً 1207ء میں بلخ کے علاقے میں پیدا ہوئے؛ روایتی تاریخ 30 ستمبر 1207ء ہے۔ بعض جدید محققین ان کی جائے پیدائش بلخ کے قریب وخش (موجودہ تاجکستان) بتاتے ہیں۔

مولانا رومی کی مشہور کتابیں کون سی ہیں؟

مثنوی معنوی، جو چھ دفاتر پر مشتمل صوفیانہ تعلیم کی منظوم کتاب ہے، اور دیوانِ شمس تبریزی، جو ان کی غزلوں اور رباعیوں کا مجموعہ ہے۔ نثر میں فیہ ما فیہ ان کی گفتگوؤں کا مجموعہ ہے۔

مولانا رومی کو رومی کیوں کہا جاتا ہے؟

ان کی زندگی کا بڑا حصہ اناطولیہ میں گزرا جسے مسلمان روم کہتے تھے اور جہاں سلجوقیانِ روم کی حکومت تھی؛ اسی نسبت سے وہ رومی کہلائے۔

شمس تبریزی کون تھے؟

شمس الدین تبریزی ایک درویش تھے جن سے رومی کی ملاقات 1244ء میں قونیہ میں ہوئی۔ اس ملاقات نے رومی کو مدرس اور فقیہ سے صوفی شاعر بنا دیا؛ رومی نے اپنی غزلوں کا دیوان انھی کے نام سے منسوب کیا۔

مولانا رومی کا انتقال کب ہوا اور مزار کہاں ہے؟

مولانا رومی 17 دسمبر 1273ء کو قونیہ (ترکی) میں وفات پا گئے۔ ان کا مزار قونیہ میں ہے جو آج مولانا میوزیم کہلاتا ہے اور ان کے وصال کی رات ہر سال شبِ عروس کے نام سے منائی جاتی ہے۔

مولانا جلال الدین رومی پر منتخب کتابیں

اگر آپ اس شخصیت کو مزید سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ کتابیں ایک اچھا آغاز ہیں۔ ہر کتاب کے ساتھ ہماری ایماندار وجہ درج ہے۔

Amazon ایسوسی ایٹ کے طور پر UrduBiography.com اہل خریداریوں سے کمیشن حاصل کر سکتا ہے۔ تفصیل

ذرائع اور حوالہ جات

  1. Encyclopaedia Britannica — Rumi www.britannica.com
  2. World History Encyclopedia — Rumi www.worldhistory.org
  3. UNESCO Intangible Cultural Heritage — Mevlevi Sema Ceremony ich.unesco.org
  4. Wikipedia — Rumi (ابتدائی حوالہ) en.wikipedia.org

مزید حوالے: en.wikipedia.org

ہم ماخذ پر مبنی اصل اردو مواد شائع کرتے ہیں۔ غلطی نظر آئے تو اصلاح کی درخواست کریں۔

UrduBiography Editorial Team

یہ سوانح مستند ذرائع کی بنیاد پر اصل اردو میں تیار کی گئی ہے۔ حقائق کی تصدیق کی حالت ٹائم لائن میں درج ہے۔ کوئی غلطی نظر آئے تو ہمیں بتائیں — تصدیق کے بعد اصلاح نوٹ کے ساتھ تبدیلی کی جاتی ہے۔