عبدالستار ایدھی — سماجی خدمت گار، انسان دوست، ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی
تصویر: Hussain — Wikimedia Commons (CC BY-SA 3.0)
پاکستانی شخصیات

عبدالستار ایدھی

Abdul Sattar Edhi
سماجی خدمت گار، انسان دوست، ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی
پیدائش: 1928ء، بانٹوا، گجرات (برطانوی ہند) (تخمینی) وفات: 8 جولائی 2016ء، کراچی

پاکستان کے سب سے معروف سماجی خدمت گار اور ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی، جنھوں نے ایمبولینس سروس، یتیم خانوں، دارالامان اور لاوارث لاشوں کی تدفین کا ملک گیر فلاحی نظام قائم کیا۔

Facebook X

فوری حقائق

پیدائش
1928ء (تخمینی)
جائے پیدائش
بانٹوا، گجرات (برطانوی ہند)
وفات
8 جولائی 2016ء
جائے وفات
کراچی
پیشہ
سماجی خدمت گار، انسان دوست، ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی
قومیت
پاکستانی
خدمت کا آغاز
1951ء، میٹھادر (کراچی) میں مفت دواخانہ
ادارہ
ایدھی فاؤنڈیشن، کراچی
شریکِ حیات
بلقیس ایدھی (شادی 1965ء)، فاؤنڈیشن میں شریکِ کار
اصول
حکومتی مالی امداد سے گریز؛ عام لوگوں کے عطیات پر انحصار
طرزِ زندگی
سادہ لباس، فاؤنڈیشن کے کوارٹر میں رہائش
تدفین
ایدھی ولیج، کراچی (ریاستی اعزاز کے ساتھ)
اہم تصانیف / کام
ایدھی فاؤنڈیشن (1951ء سے)، ایدھی ایمبولینس سروس (پہلی ایمبولینس 1957ء)، ایدھی ہومز (یتیم، بے سہارا اور ذہنی مریضوں کے مراکز)، لاوارث نومولودوں کے لیے جھولا سروس
اعزازات
رامون میگسیسے ایوارڈ برائے عوامی خدمت، 1986ء، لینن امن انعام، 1988ء، نشانِ امتیاز، حکومتِ پاکستان، 1989ء، بالزان پرائز برائے انسانیت، امن اور بھائی چارہ، 2000ء

تعارف

عبدالستار ایدھی پاکستان کے سب سے معروف سماجی خدمت گار اور ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی تھے۔ انھوں نے کراچی کے ایک چھوٹے سے دواخانے سے آغاز کیا اور رفتہ رفتہ ایک ایسا فلاحی نیٹ ورک کھڑا کیا جو ایمبولینس سروس، یتیم خانوں، دارالامان، دواخانوں، لاوارث لاشوں کی تدفین اور بے سہارا افراد کی دیکھ بھال تک پھیلا ہوا ہے۔ سادہ لباس، عاجزانہ طرزِ زندگی اور بلا امتیاز خدمت نے انھیں پاکستان کے اندر اور باہر رحم دلی کی علامت بنا دیا۔

ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر

عبدالستار ایدھی 1928ء میں برطانوی ہند کی ریاست گجرات کے قصبے بانٹوا میں ایک میمن تاجر گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ نے بچپن ہی سے انھیں دوسروں کی مدد کا سبق دیا؛ اپنی خودنوشت میں ایدھی بتاتے ہیں کہ والدہ انھیں اسکول جاتے وقت دو پیسے دیتیں، ایک اپنے لیے اور ایک کسی ضرورت مند کے لیے۔ جب وہ گیارہ برس کے تھے تو والدہ فالج کا شکار ہو کر بستر سے لگ گئیں؛ برسوں ان کی تیمارداری نے نوعمر ایدھی کو بیماروں اور بے بسوں کے دکھ سے قریب کر دیا۔ والدہ کا انتقال 1947ء میں ہوا، اور اسی سال تقسیمِ ہند کے بعد ایدھی اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے کراچی آ گئے۔

تعلیم

ایدھی زیادہ رسمی تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ والدہ کی بیماری اور گھریلو حالات کی وجہ سے اسکول کا سلسلہ جلد منقطع ہو گیا۔ ان کی زندگی سے ظاہر ہے کہ ان کی اصل درس گاہ انسانی تکلیف کا براہِ راست مشاہدہ تھا۔

عملی زندگی

کراچی آنے کے بعد ایدھی نے معمولی کاموں سے روزی کمائی اور کپڑے کی ہول سیل مارکیٹ میں کمیشن ایجنٹ کے طور پر بھی کام کیا۔ 1951ء میں انھوں نے میٹھادر کے علاقے میں ایک چھوٹا سا دواخانہ کھولا جہاں غریبوں کا مفت علاج ہوتا تھا؛ یہی ایدھی فاؤنڈیشن کی ابتدا تھی۔ 1957ء میں کراچی میں فلو کی وبا کے دوران انھوں نے خیمے لگا کر مریضوں کی دیکھ بھال کی، اور عطیات سے پہلی ایمبولینس خریدی جسے وہ خود چلاتے تھے۔

1965ء میں انھوں نے بلقیس بانو سے شادی کی، جو ان کے دواخانے میں نرس تھیں۔ بلقیس ایدھی زندگی بھر ان کی شریکِ کار رہیں اور خاص طور پر خواتین، بچوں اور لاوارث نومولودوں کے شعبوں کی نگرانی کرتی رہیں۔ ایدھی جوڑے نے پوری زندگی خدمت کے لیے وقف کر دی؛ وہ فاؤنڈیشن کے سادہ کوارٹر میں رہتے، معمولی لباس پہنتے اور عطیات کا حساب کھلے عام رکھتے۔ ایدھی کا اصول تھا کہ وہ حکومتوں اور بڑے اداروں کی مالی امداد قبول نہیں کریں گے بلکہ عام لوگوں کے عطیات پر انحصار کریں گے، تاکہ ادارہ ہر دباؤ سے آزاد رہے۔

اہم کارنامے

ایدھی فاؤنڈیشن کی خدمات کئی شعبوں پر محیط ہیں۔ اس کی ایمبولینس سروس پاکستان کے شہروں اور شاہراہوں پر پھیلی ہوئی ہے اور اکثر دنیا کی سب سے بڑی رضاکار ایمبولینس سروس کہی جاتی ہے۔ فاؤنڈیشن کے مراکز میں یتیم اور بے سہارا بچوں، معذور اور ذہنی مریضوں، بے گھر بزرگوں اور گھروں سے نکالی گئی خواتین کو پناہ دی جاتی ہے۔ ہر مرکز کے باہر رکھا ہوا جھولا ایدھی کی ایک الگ پہچان ہے، جس میں لاوارث نومولودوں کو چھوڑ کر انھیں ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے؛ ایسے بچوں کی پرورش اور بے اولاد جوڑوں کو ان کی حوالگی فاؤنڈیشن کا مستقل کام رہا ہے۔ ایدھی نے لاوارث لاشوں کو غسل دینے، کفن پہنانے اور دفن کرنے کا کام اپنے ہاتھوں سے کیا، اور فاؤنڈیشن کے سرد خانے اس خدمت کو آج بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مفت دواخانے، زچگی کے مراکز، بحالی کے مراکز، جانوروں کی پناہ گاہ اور بیرونِ ملک قدرتی آفات کے بعد امدادی کام بھی ادارے کی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔

اہم کام

ایدھی مصنف نہیں تھے، مگر ان کی خودنوشت A Mirror to the Blind 1996ء میں شائع ہوئی، جو انھوں نے تہمینہ درانی کو زبانی بیان کی۔ یہ کتاب ان کے بچپن، کراچی کے ابتدائی برسوں اور خدمت کے فلسفے کا بنیادی ماخذ ہے۔ ان کا سب سے بڑا کام خود ایدھی فاؤنڈیشن ہے، جو عام لوگوں کے عطیات پر چلنے والا ایک ایسا ادارہ ہے جس نے پاکستان میں ریاستی سہولتوں کی کمی کو کئی شعبوں میں پورا کیا۔

نظریات اور کام کی اہمیت

ایدھی کا فلسفہ سادہ تھا: انسانیت کی خدمت مذہب، فرقے، زبان اور قومیت کی تقسیم سے بالاتر ہے۔ ان کے ادارے نے کبھی یہ نہیں پوچھا کہ مدد لینے والا کس عقیدے کا ہے، اور اسی اصول کی وجہ سے انھیں بعض حلقوں کی تنقید بھی سہنی پڑی۔ وہ خدمت کو عبادت کا درجہ دیتے تھے اور دکھاوے سے سخت گریز کرتے تھے؛ انعامات اور اعزازات وصول کرتے وقت بھی وہ اپنا سادہ لباس نہیں بدلتے تھے۔ ان کی اہمیت اس بات میں ہے کہ انھوں نے ایک ایسے معاشرے میں، جہاں ریاستی فلاحی نظام کمزور تھا، عام شہریوں کے چھوٹے چھوٹے عطیات سے بڑے پیمانے کی خدمت ممکن بنا کر دکھائی اور لوگوں کے اعتماد کو اپنا سب سے بڑا سرمایہ بنایا۔

میراث اور اثرات

عبدالستار ایدھی طویل علالت کے بعد 8 جولائی 2016ء کو کراچی میں وفات پا گئے۔ ان کی خواہش کے مطابق ان کی آنکھوں کے قرنیے عطیہ کیے گئے، اور انھیں ریاستی اعزاز کے ساتھ ایدھی ولیج، کراچی میں دفن کیا گیا۔ ان کی وفات کے بعد بلقیس ایدھی اور ان کے بیٹے فیصل ایدھی نے ادارے کی قیادت سنبھالی۔ انھیں رامون میگسیسے ایوارڈ، لینن امن انعام، نشانِ امتیاز، بالزان پرائز اور یونیسکو کے مدن جیت سنگھ انعام سمیت کئی بین الاقوامی اعزازات ملے، اور نوبل امن انعام کے لیے بھی ان کا نام پیش کیا گیا۔ 2017ء میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ان کی یاد میں پچاس روپے کا سکہ جاری کیا۔ ایدھی کی اصل میراث مگر وہ رضاکار اور وہ عوامی اعتماد ہے جس کے سہارے ان کا ادارہ آج بھی چل رہا ہے۔

زندگی کی اہم تاریخیں

  1. 1928ء
    بانٹوا، گجرات میں پیدائش
    تخمینی ماخذ: Britannica
  2. 1947ء
    والدہ کا انتقال؛ تقسیمِ ہند کے بعد خاندان کے ساتھ کراچی ہجرت
    ماخذ: A Mirror to the Blind
  3. 1951ء
    میٹھادر، کراچی میں مفت دواخانے کا قیام؛ ایدھی فاؤنڈیشن کی ابتدا
    ماخذ: Edhi Foundation
  4. 1957ء
    کراچی میں فلو کی وبا کے دوران خدمت؛ عطیات سے پہلی ایمبولینس
    ماخذ: Edhi Foundation
  5. 1965ء
    بلقیس بانو سے شادی
    ماخذ: A Mirror to the Blind
  6. 1986ء
    رامون میگسیسے ایوارڈ
    ماخذ: Ramon Magsaysay Award Foundation
  7. 1989ء
    حکومتِ پاکستان کی طرف سے نشانِ امتیاز
    ماخذ: Britannica
  8. 2000ء
    بالزان پرائز برائے انسانیت، امن اور بھائی چارہ
    ماخذ: Balzan Foundation
  9. 8 جولائی 2016ء
    کراچی میں وفات؛ ریاستی اعزاز کے ساتھ تدفین
    ماخذ: Britannica

اکثر پوچھے گئے سوالات

عبدالستار ایدھی کب اور کہاں پیدا ہوئے؟

عبدالستار ایدھی 1928ء میں برطانوی ہند کی ریاست گجرات کے قصبے بانٹوا میں پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش کا دن اور مہینہ مختلف ماخذ میں مختلف بیان ہوتا ہے، اس لیے یہاں صرف سال درج ہے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کب اور کیسے قائم ہوئی؟

ایدھی فاؤنڈیشن کی ابتدا 1951ء میں ہوئی جب عبدالستار ایدھی نے کراچی کے علاقے میٹھادر میں غریبوں کے لیے ایک مفت دواخانہ کھولا۔ 1957ء میں عطیات سے پہلی ایمبولینس خریدی گئی، اور رفتہ رفتہ یہ ادارہ ملک گیر فلاحی نیٹ ورک بن گیا۔

ایدھی فاؤنڈیشن کون سی خدمات انجام دیتی ہے؟

ایدھی فاؤنڈیشن ایمبولینس سروس، مفت دواخانے، یتیم اور بے سہارا بچوں کے مراکز، دارالامان، ذہنی مریضوں کی دیکھ بھال، لاوارث نومولودوں کے لیے جھولا سروس، سرد خانے اور لاوارث لاشوں کی تدفین جیسی خدمات انجام دیتی ہے۔

عبدالستار ایدھی کو کون سے اعزازات ملے؟

انھیں رامون میگسیسے ایوارڈ (1986ء)، لینن امن انعام (1988ء)، نشانِ امتیاز (1989ء)، بالزان پرائز (2000ء) اور یونیسکو کا مدن جیت سنگھ انعام (2009ء) سمیت کئی اعزازات ملے۔

عبدالستار ایدھی کا انتقال کب ہوا؟

عبدالستار ایدھی کا انتقال 8 جولائی 2016ء کو کراچی میں ہوا۔ انھیں ریاستی اعزاز کے ساتھ ایدھی ولیج، کراچی میں دفن کیا گیا۔

عبدالستار ایدھی پر منتخب کتابیں

اگر آپ اس شخصیت کو مزید سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ کتابیں ایک اچھا آغاز ہیں۔ ہر کتاب کے ساتھ ہماری ایماندار وجہ درج ہے۔

Pakistan: A Hard Country

Anatol Lieven

ایدھی کی براہِ راست سوانح نہیں، مگر پاکستانی معاشرے، ریاست اور خیراتی اداروں کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے مفید کتاب جس میں ایدھی فاؤنڈیشن کا ذکر بھی ہے۔

Amazon پر کتاب دیکھیں

Amazon ایسوسی ایٹ کے طور پر UrduBiography.com اہل خریداریوں سے کمیشن حاصل کر سکتا ہے۔ تفصیل

ذرائع اور حوالہ جات

  1. Edhi Foundation — Official Website edhi.org
  2. Encyclopaedia Britannica — Abdul Sattar Edhi www.britannica.com
  3. Ramon Magsaysay Award Foundation www.rmaward.asia
  4. Wikipedia — Abdul Sattar Edhi (ابتدائی حوالہ) en.wikipedia.org

مزید حوالے: en.wikipedia.org

ہم ماخذ پر مبنی اصل اردو مواد شائع کرتے ہیں۔ غلطی نظر آئے تو اصلاح کی درخواست کریں۔

UrduBiography Editorial Team

یہ سوانح مستند ذرائع کی بنیاد پر اصل اردو میں تیار کی گئی ہے۔ حقائق کی تصدیق کی حالت ٹائم لائن میں درج ہے۔ کوئی غلطی نظر آئے تو ہمیں بتائیں — تصدیق کے بعد اصلاح نوٹ کے ساتھ تبدیلی کی جاتی ہے۔