بے نظیر بھٹو
بے نظیر بھٹو (1953ء–2007ء) پاکستان کی دو مرتبہ وزیرِاعظم اور کسی مسلم اکثریتی ملک کی حکومت کی سربراہی کرنے والی پہلی خاتون تھیں؛ پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور دخترِ مشرق کی مصنفہ۔
فوری حقائق
- پیدائش
- 21 جون 1953ء
- جائے پیدائش
- کراچی، سندھ
- وفات
- 27 دسمبر 2007ء
- جائے وفات
- راولپنڈی، پنجاب
- پیشہ
- سیاست دان، پاکستان کی سابق وزیرِاعظم، مصنفہ
- قومیت
- پاکستانی
- تعلیم
- ریڈکلف کالج، ہارورڈ (بی اے 1973ء)؛ لیڈی مارگریٹ ہال، آکسفورڈ
- سیاسی جماعت
- پاکستان پیپلز پارٹی (چیئرپرسن)
- عہدہ
- وزیرِاعظم پاکستان (1988ء–1990ء اور 1993ء–1996ء)
- اعزاز
- آکسفورڈ یونین کی پہلی ایشیائی خاتون صدر
- والدین
- ذوالفقار علی بھٹو اور نصرت بھٹو
- شریکِ حیات
- آصف علی زرداری (شادی 1987ء)
- آخری آرام گاہ
- گڑھی خدا بخش، ضلع لاڑکانہ
- اہم تصانیف / کام
- Daughter of the East / دخترِ مشرق (خودنوشت، 1988ء)، Reconciliation: Islam, Democracy, and the West (2008ء، بعد از وفات)
- اعزازات
- اقوامِ متحدہ کا انسانی حقوق انعام (United Nations Prize in the Field of Human Rights)، 2008ء، بعد از وفات
تعارف
بے نظیر بھٹو پاکستان کی دو مرتبہ وزیرِاعظم رہیں اور جدید تاریخ میں کسی مسلم اکثریتی ملک کی حکومت کی سربراہی کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی تھیں۔ ان کی سیاسی زندگی قید، جلاوطنی، انتخابی کامیابیوں اور حکومتوں کی برطرفی کے اتار چڑھاؤ سے گزری اور دسمبر 2007ء میں راولپنڈی میں ایک حملے میں ان کی موت پر ختم ہوئی۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
بے نظیر بھٹو 21 جون 1953ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو اور نصرت بھٹو کی چار اولادوں میں سب سے بڑی تھیں۔ ان کا خاندان سندھ کے ضلع لاڑکانہ کا بااثر زمین دار خانوادہ تھا؛ والد 1971ء سے 1977ء تک پاکستان کے صدر اور پھر وزیرِاعظم رہے۔ دسمبر 1987ء میں انھوں نے کراچی میں آصف علی زرداری سے شادی کی؛ ان کے تین بچے بلاول، بختاور اور آصفہ ہیں۔
تعلیم
ابتدائی تعلیم کراچی اور مری کے کانونٹ اسکولوں میں حاصل کی۔ 1969ء میں وہ امریکا گئیں اور ہارورڈ یونیورسٹی کے ریڈکلف کالج میں داخلہ لیا، جہاں سے 1973ء میں تقابلی حکومت (کمپیریٹو گورنمنٹ) میں بی اے کی ڈگری امتیازی حیثیت سے حاصل کی۔ اسی سال وہ آکسفورڈ کے لیڈی مارگریٹ ہال میں فلسفہ، سیاسیات اور معاشیات کی تعلیم کے لیے داخل ہوئیں۔ 1976ء کے آخر میں وہ آکسفورڈ یونین کی صدر منتخب ہوئیں اور یہ منصب حاصل کرنے والی پہلی ایشیائی خاتون بنیں۔ 1977ء میں تعلیم مکمل کر کے وہ پاکستان واپس آئیں۔
عملی زندگی
ان کی واپسی کے چند ہفتے بعد جولائی 1977ء میں فوج نے ان کے والد کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ 1979ء میں ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کی سازش کے ایک مقدمے میں عدالتی فیصلے کے تحت پھانسی دے دی گئی۔ اگلے برسوں میں بے نظیر بھٹو اور ان کی والدہ کو متعدد بار نظربند اور قید رکھا گیا۔ 1984ء میں وہ علاج کی غرض سے لندن منتقل ہوئیں اور جلاوطنی میں پیپلز پارٹی کی قیادت کی۔ 10 اپریل 1986ء کو لاہور واپسی پر ان کا استقبال ملکی تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہوتا ہے۔
اگست 1988ء میں صدر ضیاء الحق کی وفات کے بعد نومبر 1988ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی اور 2 دسمبر 1988ء کو بے نظیر بھٹو پینتیس برس کی عمر میں وزیرِاعظم بنیں۔ ان کی پہلی حکومت کو اگست 1990ء میں صدر غلام اسحاق خان نے برطرف کر دیا۔ 1990ء سے 1993ء تک وہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر رہیں۔ اکتوبر 1993ء کے انتخابات کے بعد وہ دوبارہ وزیرِاعظم بنیں اور نومبر 1996ء تک اس عہدے پر رہیں، جب صدر فاروق لغاری نے ان کی دوسری حکومت برطرف کی۔ 1990ء کی دہائی کے آخر میں وہ ملک سے باہر چلی گئیں اور تقریباً آٹھ برس دبئی اور لندن میں مقیم رہیں۔
18 اکتوبر 2007ء کو وہ انتخابی مہم کے لیے کراچی واپس آئیں؛ اسی رات ان کے استقبالی قافلے پر حملے میں بڑی تعداد میں لوگ جان سے گئے۔ 27 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں انتخابی جلسے سے خطاب کے بعد روانگی کے وقت ان کی گاڑی کے قریب فائرنگ اور خودکش دھماکا ہوا، جس میں وہ جان سے گئیں۔ انھیں لاڑکانہ کے قریب گڑھی خدا بخش کے خاندانی قبرستان میں والد کے پہلو میں دفن کیا گیا۔
اہم کارنامے
- جدید تاریخ میں کسی مسلم اکثریتی ملک کی پہلی خاتون سربراہِ حکومت (1988ء)۔
- پاکستان کی دو مرتبہ منتخب وزیرِاعظم (1988ء–1990ء اور 1993ء–1996ء)۔
- پہلی حکومت میں فرسٹ ویمن بینک کا قیام اور خواتین کے لیے علاحدہ پولیس اسٹیشنوں کا آغاز۔
- دوسری حکومت میں لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کا آغاز۔
- 1989ء میں پاکستان کی دولتِ مشترکہ میں دوبارہ شمولیت۔
- اقوامِ متحدہ کا انسانی حقوق انعام (2008ء، بعد از وفات)۔
اہم تصانیف
بے نظیر بھٹو کی خودنوشت Daughter of the East 1988ء میں شائع ہوئی، جس کا اردو ترجمہ دخترِ مشرق کے نام سے مقبول ہوا؛ امریکی ایڈیشن Daughter of Destiny کے نام سے چھپا۔ ان کی دوسری اہم کتاب Reconciliation: Islam, Democracy, and the West ان کی وفات کے بعد 2008ء میں شائع ہوئی، جس میں اسلام اور جمہوریت کی ہم آہنگی اور مسلم دنیا اور مغرب کے تعلقات پر ان کے خیالات درج ہیں۔
نظریات اور کام کی اہمیت
بے نظیر بھٹو کی سیاست کا مرکز پارلیمانی جمہوریت، سویلین بالادستی اور عوامی حقوق کا تصور تھا۔ وہ خواتین کی تعلیم، صحت اور معاشی خود مختاری کو ترقی کی شرط سمجھتی تھیں۔ عالمی سطح پر انھوں نے بار بار یہ موقف پیش کیا کہ اسلام اور جمہوریت میں کوئی بنیادی تضاد نہیں؛ ان کی آخری کتاب اسی موضوع پر مرکوز ہے۔ ان کے دورِ حکومت کی کارکردگی اور فیصلوں پر پاکستان میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں، مگر ایک مسلم معاشرے میں خاتون کی سیاسی قیادت کو عملی حقیقت بنانے میں ان کے کردار پر وسیع اتفاق ہے۔
میراث اور اثرات
بے نظیر بھٹو کی موت کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت ان کے شوہر آصف علی زرداری اور بیٹے بلاول بھٹو زرداری کے پاس آئی۔ اسلام آباد کا بین الاقوامی ہوائی اڈا کئی برس تک ان کے نام سے منسوب رہا، اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے مالی امداد کا وفاقی پروگرام بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام آج بھی ان کے نام سے جاری ہے۔ 2008ء میں اقوامِ متحدہ نے انھیں بعد از وفات انسانی حقوق کے میدان میں اپنے انعام سے نوازا۔ عالمی سطح پر وہ مسلم دنیا میں خواتین کی سیاسی شرکت کی علامت بن چکی ہیں؛ ملالہ یوسفزئی سمیت کئی نوجوان خواتین نے انھیں اپنا آئیڈیل قرار دیا ہے۔ اس ویب سائٹ پر فاطمہ جناح کی سوانح پاکستان میں خواتین کی سیاسی قیادت کے اس سلسلے کی ابتدائی کڑی پیش کرتی ہے۔
زندگی کی اہم تاریخیں
-
21 جون 1953ءکراچی میں پیدائشماخذ: Britannica
-
1973ءہارورڈ یونیورسٹی (ریڈکلف کالج) سے بی اے؛ اسی سال آکسفورڈ میں داخلہماخذ: Britannica
-
1976ءآکسفورڈ یونین کی صدر منتخب (1976ء–1977ء کی مدت)؛ یہ منصب پانے والی پہلی ایشیائی خاتونتخمینی ماخذ: Dawn
-
10 اپریل 1986ءجلاوطنی کے بعد لاہور واپسی اور بڑے عوامی استقبالماخذ: Britannica
-
2 دسمبر 1988ءپہلی مرتبہ وزیرِاعظم پاکستان کے عہدے کا حلفماخذ: Britannica
-
19 اکتوبر 1993ءدوسری مرتبہ وزیرِاعظم منتخبماخذ: Britannica
-
1999ءملک سے باہر قیام کا آغاز؛ تقریباً آٹھ برس دبئی اور لندن میں مقیم (بعض ماخذ 1998ء لکھتے ہیں)تخمینی ماخذ: Britannica
-
18 اکتوبر 2007ءکراچی واپسی؛ اسی رات استقبالی قافلے پر حملہماخذ: Britannica
-
27 دسمبر 2007ءراولپنڈی کے لیاقت باغ میں انتخابی جلسے کے بعد حملے میں وفاتماخذ: Britannica
اکثر پوچھے گئے سوالات
بے نظیر بھٹو کب اور کہاں پیدا ہوئیں؟
بے نظیر بھٹو 21 جون 1953ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ وہ سابق وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو اور نصرت بھٹو کی سب سے بڑی اولاد تھیں۔
بے نظیر بھٹو کیوں مشہور ہیں؟
وہ پاکستان کی دو مرتبہ وزیرِاعظم رہیں (1988ء–1990ء اور 1993ء–1996ء) اور جدید تاریخ میں کسی مسلم اکثریتی ملک کی حکومت کی سربراہی کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔
بے نظیر بھٹو نے تعلیم کہاں حاصل کی؟
انھوں نے 1973ء میں ہارورڈ یونیورسٹی کے ریڈکلف کالج سے بی اے کیا اور پھر آکسفورڈ یونیورسٹی کے لیڈی مارگریٹ ہال میں تعلیم حاصل کی، جہاں وہ آکسفورڈ یونین کی صدر بھی منتخب ہوئیں۔
بے نظیر بھٹو کی مشہور کتابیں کون سی ہیں؟
ان کی خودنوشت Daughter of the East (اردو: دخترِ مشرق) 1988ء میں شائع ہوئی، اور ان کی کتاب Reconciliation: Islam, Democracy, and the West ان کی وفات کے بعد 2008ء میں شائع ہوئی۔
بے نظیر بھٹو کا انتقال کیسے ہوا؟
27 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں انتخابی جلسے سے خطاب کے بعد روانگی کے وقت ان کی گاڑی کے قریب فائرنگ اور خودکش دھماکا ہوا، جس میں وہ جان سے گئیں۔ انھیں گڑھی خدا بخش، لاڑکانہ میں دفن کیا گیا۔
بے نظیر بھٹو پر منتخب کتابیں
اگر آپ اس شخصیت کو مزید سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ کتابیں ایک اچھا آغاز ہیں۔ ہر کتاب کے ساتھ ہماری ایماندار وجہ درج ہے۔
Daughter of the East (دخترِ مشرق)
بے نظیر بھٹو کی اپنی خودنوشت، جس میں بچپن سے جلاوطنی تک کے برسوں کا بیان خود ان کے قلم سے ملتا ہے؛ اردو ترجمہ بھی دستیاب ہے۔
Amazon پر کتاب دیکھیںReconciliation: Islam, Democracy, and the West
ان کی آخری کتاب، جو وفات کے بعد شائع ہوئی اور اسلام اور جمہوریت کی ہم آہنگی پر ان کے خیالات کا خلاصہ ہے۔
Amazon پر کتاب دیکھیںZulfi Bhutto of Pakistan: His Life and Times
ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کی معروف سوانح، جو بے نظیر بھٹو کی سیاسی وراثت کے پس منظر کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
Amazon پر کتاب دیکھیںAmazon ایسوسی ایٹ کے طور پر UrduBiography.com اہل خریداریوں سے کمیشن حاصل کر سکتا ہے۔ تفصیل
ذرائع اور حوالہ جات
- Encyclopaedia Britannica — Benazir Bhutto www.britannica.com
- UN News — Benazir Bhutto named among seven winners of UN human rights prize (2008) news.un.org
- Harvard Gazette — ClassACT casts a mold for leadership (Benazir Bhutto Leadership Program) news.harvard.edu
- Dawn — Oxford friends remember fiery and fun Benazir www.dawn.com
- Wikipedia — Benazir Bhutto (ابتدائی حوالہ) en.wikipedia.org
مزید حوالے: en.wikipedia.org
ہم ماخذ پر مبنی اصل اردو مواد شائع کرتے ہیں۔ غلطی نظر آئے تو اصلاح کی درخواست کریں۔
یہ سوانح مستند ذرائع کی بنیاد پر اصل اردو میں تیار کی گئی ہے۔ حقائق کی تصدیق کی حالت ٹائم لائن میں درج ہے۔ کوئی غلطی نظر آئے تو ہمیں بتائیں — تصدیق کے بعد اصلاح نوٹ کے ساتھ تبدیلی کی جاتی ہے۔