قائداعظم محمد علی جناح
محمد علی جناح (1876ء–1948ء) آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر، تحریکِ پاکستان کے قائد اور پاکستان کے پہلے گورنر جنرل تھے، جنھیں قائداعظم اور بابائے قوم کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔
فوری حقائق
- پیدائش
- 25 دسمبر 1876ء
- جائے پیدائش
- کراچی، سندھ
- وفات
- 11 ستمبر 1948ء
- جائے وفات
- کراچی
- پیشہ
- بیرسٹر، سیاست دان، بانیِ پاکستان
- قومیت
- برطانوی ہند؛ پاکستان
- لقب
- قائداعظم، بابائے قوم
- تعلیم
- سندھ مدرسۃ الاسلام، کراچی؛ لنکنز اِن، لندن (بیرسٹر)
- پیشہ
- بیرسٹر؛ بمبئی ہائی کورٹ میں وکالت
- سیاسی جماعت
- آل انڈیا مسلم لیگ (صدر)
- عہدہ
- پاکستان کے پہلے گورنر جنرل (1947ء–1948ء)
- اہلِ خانہ
- اہلیہ رتن بائی جناح؛ بیٹی دینا؛ بہن فاطمہ جناح
- آخری آرام گاہ
- مزارِ قائد، کراچی
- اہم تصانیف / کام
- دستور ساز اسمبلی سے خطاب (11 اگست 1947ء)، لاہور اجلاس کا صدارتی خطبہ (مارچ 1940ء)، چودہ نکات (1929ء)
تعارف
قائداعظم محمد علی جناح برصغیر کی بیسویں صدی کی سیاست کے سب سے مؤثر رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ پیشے کے لحاظ سے بیرسٹر تھے، آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر رہے اور 1947ء میں پاکستان کے قیام کے بعد اس نئی مملکت کے پہلے گورنر جنرل بنے۔ پاکستان میں انھیں قائداعظم اور بابائے قوم کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
محمد علی جناح 25 دسمبر 1876ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ یہ تاریخ سرکاری طور پر تسلیم شدہ ہے، تاہم بعض اسکول ریکارڈ میں ان کی پیدائش 20 اکتوبر 1875ء درج ہے۔ ان کے والد جناح بھائی پونجا ایک تاجر تھے اور والدہ کا نام مٹھی بائی تھا۔ محمد علی سات بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے؛ ان کی بہن فاطمہ جناح بعد میں ان کی قریبی ساتھی اور پاکستان کی مادرِ ملت کے طور پر معروف ہوئیں۔
1918ء میں انھوں نے بمبئی کے پارسی صنعت کار سر ڈنشا پیٹٹ کی بیٹی رتن بائی (رٹی) سے شادی کی؛ 1919ء میں ان کی اکلوتی بیٹی دینا پیدا ہوئیں۔ رتن بائی کا 1929ء میں انتقال ہو گیا، جس کے بعد فاطمہ جناح نے ان کے گھر کی ذمے داری سنبھالی اور زندگی کے آخر تک ان کے ساتھ رہیں۔
تعلیم
ابتدائی تعلیم کراچی کے سندھ مدرسۃ الاسلام اور کرسچن مشن ہائی اسکول میں حاصل کی۔ 1892ء کے آخر یا 1893ء کے اوائل میں وہ لندن روانہ ہوئے، جہاں والد کی خواہش تو کاروباری تربیت کی تھی مگر انھوں نے قانون کی طرف رجوع کیا اور لنکنز اِن میں داخلہ لیا۔ 1895ء–1896ء میں وہ بیرسٹر بنے اور اُس وقت کے کم عمر ترین ہندوستانی بیرسٹروں میں شمار ہوئے۔ لندن کے قیام میں برطانوی پارلیمانی روایت اور آئینی سیاست سے ان کا تعارف ہوا، جس نے ان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا۔
عملی زندگی
1896ء میں ہندوستان واپس آ کر انھوں نے بمبئی میں وکالت شروع کی اور چند برسوں میں شہر کے کامیاب ترین وکیلوں میں شمار ہونے لگے۔ سیاست میں ان کا باقاعدہ داخلہ 1906ء میں انڈین نیشنل کانگریس کے کلکتہ اجلاس میں شرکت سے ہوا۔ 1913ء میں وہ آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور کئی برس تک دونوں جماعتوں کے مابین پل کا کردار ادا کیا۔ 1916ء کا میثاقِ لکھنؤ، جس میں کانگریس اور مسلم لیگ نے مسلمانوں کی علاحدہ نمائندگی پر اتفاق کیا، انہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا۔
گاندھی کی عدم تعاون کی تحریک اور عوامی احتجاج کے طریقۂ کار سے اختلاف کے بعد انھوں نے 1920ء میں کانگریس چھوڑ دی۔ 1929ء میں انھوں نے مسلمانوں کے آئینی مطالبات کو چودہ نکات کی صورت میں پیش کیا۔ گول میز کانفرنسوں کے بعد وہ 1930ء کی دہائی کے اوائل میں لندن میں مقیم رہے اور پریوی کونسل میں وکالت کرتے رہے۔ 1934ء–1935ء میں ساتھیوں کے اصرار پر واپس آ کر انھوں نے مسلم لیگ کی تنظیمِ نو کی۔ مارچ 1940ء میں لاہور کے اجلاس میں قراردادِ لاہور منظور ہوئی، جس میں مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل آزاد ریاستوں کا مطالبہ کیا گیا۔ 14 اگست 1947ء کو پاکستان معرضِ وجود میں آیا اور جناح اس کے پہلے گورنر جنرل اور دستور ساز اسمبلی کے صدر بنے۔
اہم کارنامے
- میثاقِ لکھنؤ (1916ء) کے ذریعے کانگریس اور مسلم لیگ کے مابین آئینی اتفاق۔
- چودہ نکات (1929ء) کی صورت میں مسلمانوں کے سیاسی مطالبات کی واضح تدوین۔
- 1930ء کی دہائی میں منتشر مسلم لیگ کو ایک منظم عوامی جماعت میں تبدیل کرنا۔
- قراردادِ لاہور (1940ء) سے قیامِ پاکستان (1947ء) تک تحریک کی قیادت۔
- پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کے طور پر نئی ریاست کے ابتدائی اداروں کی بنیاد۔
اہم کام
جناح نے باقاعدہ کتابیں نہیں لکھیں؛ ان کا فکری سرمایہ ان کی تقاریر، بیانات اور خطوط میں محفوظ ہے۔ ان میں سب سے زیادہ حوالہ 11 اگست 1947ء کو دستور ساز اسمبلی سے کیا گیا خطاب ہے، جس میں انھوں نے مذہبی آزادی، قانون کی حکمرانی اور شہریوں کی مساوات پر زور دیا۔ 1940ء کے لاہور اجلاس کا صدارتی خطبہ، جس میں انھوں نے مسلمانوں کو ایک علاحدہ قوم قرار دیا، اور قیامِ پاکستان کے بعد کے خطابات بھی ان کے سیاسی تصورات کے بنیادی ماخذ ہیں۔
نظریات اور کام کی اہمیت
جناح کی سیاست کی بنیاد آئینی جدوجہد پر تھی؛ وہ مذاکرات، قانون سازی اور انتخابی طاقت کو تبدیلی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ ابتدا میں وہ ہندوستانی قومیت کے علمبردار تھے، مگر 1930ء کی دہائی تک وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی حقوق کی ضمانت ممکن نہیں، اور انھوں نے دو قومی نظریے کو اپنی سیاست کا محور بنایا۔ علامہ اقبال کے ساتھ ان کی خط و کتابت اس فکری تبدیلی کا اہم حوالہ ہے۔ ان کا مشہور نعرہ اتحاد، ایمان، تنظیم آج بھی پاکستان کی قومی زندگی میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔ ساتھ ہی وہ اقلیتوں کے حقوق اور ریاستی معاملات میں مذہبی تفریق سے گریز پر بھی زور دیتے تھے، جس کا واضح اظہار 11 اگست 1947ء کی تقریر میں ملتا ہے۔
میراث اور اثرات
قیامِ پاکستان کے صرف تیرہ مہینے بعد، 11 ستمبر 1948ء کو، محمد علی جناح تپِ دق کی طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کر گئے۔ انھیں کراچی میں دفن کیا گیا، جہاں بعد ازاں مزارِ قائد تعمیر ہوا۔ 25 دسمبر پاکستان میں قومی تعطیل ہے، ان کی تصویر پاکستانی کرنسی نوٹوں پر ہے اور ملک بھر میں ادارے، شاہراہیں اور ہوائی اڈے ان کے نام سے منسوب ہیں۔ تاریخ دان ان کی سیاست کی تعبیر پر مختلف آرا رکھتے ہیں، مگر اس بات پر وسیع اتفاق ہے کہ بیسویں صدی کے جنوبی ایشیا کا نقشہ بدلنے میں ان کا کردار مرکزی تھا۔ اس ویب سائٹ پر فاطمہ جناح، لیاقت علی خان اور علامہ اقبال کی سوانح ان کی زندگی کے سیاق کو مکمل کرتی ہیں۔
زندگی کی اہم تاریخیں
-
25 دسمبر 1876ءکراچی میں پیدائش (سرکاری طور پر تسلیم شدہ تاریخ)ماخذ: Britannica
-
1896ءلنکنز اِن (لندن) سے بیرسٹر بننے کے بعد بمبئی میں وکالت کا آغاز؛ بیرسٹری کا سال بعض ماخذ میں 1895ء درج ہےتخمینی ماخذ: Britannica
-
1906ءانڈین نیشنل کانگریس کے کلکتہ اجلاس میں شرکت؛ عملی سیاست کا آغازماخذ: Britannica
-
1913ءآل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیتماخذ: Britannica
-
1916ءکانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان میثاقِ لکھنؤماخذ: Britannica
-
1929ءمسلمانوں کے آئینی مطالبات پر مشتمل چودہ نکات کی پیش کشماخذ: Britannica
-
1940ءلاہور کے سالانہ اجلاس (22 تا 24 مارچ) میں قراردادِ لاہور کی منظوریماخذ: Britannica
-
14 اگست 1947ءقیامِ پاکستان؛ پہلے گورنر جنرل اور دستور ساز اسمبلی کے صدرماخذ: National Assembly of Pakistan
-
11 ستمبر 1948ءکراچی میں وفات؛ تدفین مزارِ قائد کے مقام پرماخذ: Britannica
مشہور اقوال و اشعار
آپ آزاد ہیں؛ آپ اپنے مندروں میں جانے کے لیے آزاد ہیں، آپ اپنی مسجدوں میں یا پاکستان کی اس مملکت میں کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
قائداعظم محمد علی جناح کب اور کہاں پیدا ہوئے؟
سرکاری طور پر تسلیم شدہ تاریخ کے مطابق محمد علی جناح 25 دسمبر 1876ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ بعض اسکول ریکارڈ میں 20 اکتوبر 1875ء بھی درج ہے، مگر 25 دسمبر ہی پاکستان میں یومِ قائد کے طور پر منایا جاتا ہے۔
محمد علی جناح کیوں مشہور ہیں؟
وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر اور تحریکِ پاکستان کے قائد تھے۔ ان کی قیادت میں 1947ء میں پاکستان قائم ہوا اور وہ اس کے پہلے گورنر جنرل بنے؛ اسی لیے انھیں بانیِ پاکستان اور بابائے قوم کہا جاتا ہے۔
قائداعظم نے تعلیم کہاں حاصل کی؟
ابتدائی تعلیم کراچی کے سندھ مدرسۃ الاسلام اور کرسچن مشن اسکول میں حاصل کی، پھر لندن کے لنکنز اِن سے بیرسٹر بنے اور بمبئی میں وکالت شروع کی۔
قائداعظم کا انتقال کب ہوا اور وہ کہاں دفن ہیں؟
محمد علی جناح 11 ستمبر 1948ء کو کراچی میں انتقال کر گئے۔ ان کی آخری آرام گاہ کراچی میں مزارِ قائد ہے۔
11 اگست 1947ء کی تقریر کیوں اہم ہے؟
یہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سے ان کا پہلا صدارتی خطاب تھا، جس میں انھوں نے مذہبی آزادی، قانون کی حکمرانی اور تمام شہریوں کی مساوات پر زور دیا۔ یہ تقریر ان کے ریاستی تصور کا سب سے زیادہ حوالہ دیا جانے والا ماخذ ہے۔
قائداعظم محمد علی جناح پر منتخب کتابیں
اگر آپ اس شخصیت کو مزید سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ کتابیں ایک اچھا آغاز ہیں۔ ہر کتاب کے ساتھ ہماری ایماندار وجہ درج ہے۔
Jinnah of Pakistan
جناح کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی علمی سوانح، جو ان کی ذاتی اور سیاسی زندگی کو ایک مربوط بیانیے میں پیش کرتی ہے۔
Amazon پر کتاب دیکھیںJinnah: Creator of Pakistan
1954ء میں شائع ہونے والی ابتدائی سوانح، جس میں قائداعظم کے معاصرین کے انٹرویوز شامل ہیں۔
Amazon پر کتاب دیکھیںThe Sole Spokesman: Jinnah, the Muslim League and the Demand for Pakistan
تحریکِ پاکستان کی سیاست پر ایک بااثر تحقیقی مطالعہ، جو جناح کی حکمتِ عملی کو تاریخی دستاویزات کی روشنی میں دیکھتا ہے۔
Amazon پر کتاب دیکھیںAmazon ایسوسی ایٹ کے طور پر UrduBiography.com اہل خریداریوں سے کمیشن حاصل کر سکتا ہے۔ تفصیل
ذرائع اور حوالہ جات
- Encyclopaedia Britannica — Mohammed Ali Jinnah www.britannica.com
- National Assembly of Pakistan — Address of the Founder of Pakistan, 11 August 1947 na.gov.pk
- Frances Pritchett (Columbia University) — Jinnah's Presidential Address to the Constituent Assembly, 11 August 1947 franpritchett.com
- Pakistani.org — Constituent Assembly Address, 11 August 1947 www.pakistani.org
- Wikipedia — Muhammad Ali Jinnah (ابتدائی حوالہ) en.wikipedia.org
مزید حوالے: en.wikipedia.org
ہم ماخذ پر مبنی اصل اردو مواد شائع کرتے ہیں۔ غلطی نظر آئے تو اصلاح کی درخواست کریں۔
یہ سوانح مستند ذرائع کی بنیاد پر اصل اردو میں تیار کی گئی ہے۔ حقائق کی تصدیق کی حالت ٹائم لائن میں درج ہے۔ کوئی غلطی نظر آئے تو ہمیں بتائیں — تصدیق کے بعد اصلاح نوٹ کے ساتھ تبدیلی کی جاتی ہے۔